عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں اتوار کو نواب اکبر بگٹی کی برسی کے موقع پر شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی ہے جبکہ وڈھ سے بلوچستان نیشنل پارٹی اور پولیس کے مابین کشیدگی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
کوئٹہ سمیت صوبے کے بیشتر اضلاع میں یوم سیاہ منایا جا رہا ہے۔ دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ سڑکیں ویران پڑی ہیں۔
پولیس نے کوئٹہ میں لگ بھگ تیس افراد کو حراست میں لیا ہے۔ مری اتحاد کے ترجمان نے بتایا ہے کہ بتیس افراد تو صرف ان کے قبیلے کے اٹھائے گئے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ جہاں کہیں بھی کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو بجلی ان ہی کے سر پر گرتی ہے لیکن وہ اپنی تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ نوشکی اور سبی سے بھی گرفتاریوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
![]() | |
| نواب اکبر بگٹی گزشتہ سال ایک فوجی کارروائی میں ہلاک ہو گئے تھے |
گزشتہ روز کسی ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لیےحکومت نے کوئٹہ میں حفاظتی انتظامات کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کےتقریباً پانچ ہزار اہلکار تعینات کیے تھے۔
ادھر کوئٹہ، مستونگ، نوشکی اور خضدار میں سنیچر کو دھماکے بھی ہوئے تھے جبکہ ڈیرہ بگٹی، سوئی اور کوہلو میں راکٹ داغے گئے تھے۔ ان دھماکوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔
کوئٹہ کے پولیس افسر رحمت اللہ نیازی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ شہر میں تین ہزار پولیس اہلکار اور دو ہزار کے لگ بھگ فرنٹیئر کور اور انسداد دہشت گردی فورس کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
کوئٹہ میں ایک پولیس اہلکار کے مکان کی چھت پر دھماکہ ہوا ہے جبکہ اس کے علاوہ نوشکی اور مستونگ میں دو دو اور خضدار سے ایک دھماکے کی اطلاع ہے۔ ڈیرہ بگٹی اور سوئی میں چھ راکٹ داغے گئے۔
![]() | |
| لیاری میں پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی |
ایک شخص جس نے اپنا نام صبغت اللہ بلوچ اور خود کو لشکر بلوچستان نامی تنظیم کا ترجمان ظاہر کیا، اتوار کو نامعلوم مقام سے بی بی سی کراچی آفس کو ٹیلی فون کرکے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی اور کہا کہ ’جب تک بلوچستان میں مظالم بند نہیں ہوتے وہ اپنی مسلح جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘
کراچی سے ہمارے نامہ نگار احمد رضا نے اطلاع دی ہے کہ لیاری میں بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کی پہلی برسی کے موقع پر ہونے والے جلسے کے مقام کو پولیس نےگھیرے میں لے لیا ہے اور اسٹیج توڑ پھوڑ دیا ہے۔
یہ جلسہ جمہوری وطن پارٹی کی جانب سے لیاری کے مرکزی علاقہ بلوچ چوک پر آج سہ پہر تین بجے شروع ہونا تھا جس سے سندھی اور بلوچ قوم پرست رہنماؤں کو خطاب کرنا تھا تاہم تین بجے کے قریب ہی پولیس کی دو درجن گاڑیوں نے جلسہ گاہ کوگھیرے میں لے لیا اس وقت اسٹیج اور جلسہ گاہ کی تیاری کا کام جاری تھا۔
جلسے کے ایک منتظم اور جمہوری وطن پارٹی کے رہنما شہزادہ ظفر نے بتایا کہ محاصرے کے کچھ دیر بعد پولیس نے اسٹیج توڑ پھوڑ دیا اور تیاریوں میں مصروف نوجوانوں پر لاٹھی چارج کیا جس کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔