Wednesday, 22 August, 2007, 04:47 GMT 09:47 PST
پاکستان پیپلزپارٹی کی سربراہ اور سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے صدر جنرل پرویز مشرف پر زور دیا ہے کہ وہ شراکت اقتدار کے پیکج کا اعلان اس ماہ کے آخر تک کر دیں کیونکہ ان کی پارٹی اس میں تاخیر سے پریشان ہو رہی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ بات بینظیر بھٹو نے امریکی ٹیلیویژن ’پبلک براڈ کاسٹنگ سروس‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔
بینظیر بھٹو کا کہنا تھا ’میں نے جنرل مشرف کو آگاہ کیا ہے کہ میری پارٹی پریشان ہو رہی ہے، کیونکہ انتخابات ہونے والے ہیں اور ہمیں اس ماہ کے آخر تک معلوم ہونا چاہیے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ۔۔۔ اگر ایک پیکج ہوتا ہے تو پھر انہیں (جنرل مشرف کو) ان معاملات پر عملدرآمد شروع کر دینا چاہیے جن پر ہمارا اتفاق ہوا ہے۔‘
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’اور اگر کوئی پیکج نہیں بھی ہوتا تو تب بھی میں پاکستان جانے کا ارادہ رکھتی ہوں تاکہ اپنی پارٹی کی انتخابی مہم چلا سکوں اور ملک میں جمہوری تبدیلی کے لیے کام کر رہی دوسری اعتدال پسند سیاسی جماعتوں سے روابط بڑھا سکوں۔‘
ان کا کہنا تھا ’مجھے امید ہے کہ پیپلز پارٹی اور جنرل مشرف کے درمیان مذاکرات ناکام نہیں ہونگے ۔۔۔ لیکن ہم جنرل مشرف کی غیر مقبولیت سے خود کو آلودہ ہونے سے بچانے کی پوری کوشش کریں گے، کیونکہ یہ مذاکرات ہم جمہوریت کی قیمت ادا کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔‘
ڈیل کی شرائط |
بینظیر بھٹو نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی جماعت اور پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے رہنماؤں نے گزشتہ دنوں امریکی نائب وزیرخارجہ رچرڈ باؤچر سے ان کے دورہ پاکستان کے دوران ملاقاتیں کی ہیں۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ڈیل کے لیے ضروری ہے کہ جنرل مشرف کچھ وعدے کریں جن میں ان کا فوجی وردی اتارنا، ان کے تیسرے مرتبہ وزیراعظم بننے پر پابندی اٹھانا اور ان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات ختم کرنا شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ اور ان سے زیادہ اہم ایک اور بات ہے اور وہ جنرل مشرف سے اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ ’منصفانہ انتخابات‘ کا انعقاد کریں گے۔ منصفانہ انتخابات کے لیے (ضروری اقدامات میں) یہ بھی شامل ہے کہ نگران حکومت کی ساخت کیا ہوگی اور اس میں کون کون شامل ہوگا۔‘
بے نظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ سوائے ٹرانسپیرنٹ بیلٹ باکس کے مطالبے کے، مذکورہ بالا اقدامات میں سے کوئی بھی مکمل نہیں ہوا ہے۔ ’ اسی وجہ سے میری پارٹی میں بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ اگر یہ اقدامات ابھی تک نہیں اٹھائے گئے تو کب اٹھائے جائیں گے، انتخابات سر پر کھڑے ہیں۔‘
جہاں تک اس تنقید کا تعلق ہے کہ انہوں نے ایک فوجی حکومت سے اتحاد کر لیا ہے، بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ ’ ہم چاہتے ہیں کہ مفاہمت ایسی ہو کہ جس سے پاکستان میں ایک جمہوری اور سویلین استحکام آئے۔‘