Friday, 10 August, 2007, 15:28 GMT 20:28 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
بلوچستان کے جنوبی علاقوں میں شدید بارشوں سے بڑے پیمانے پر نقصانات کی اطلاعات ہیں اور جھل مگسی اور جعفرآباد میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں سے چار گیسٹرو کی بیماری سے اور سات افراد کرنٹ لگنے، مکان کی چھت گرنے اور سیلابی پانی میں بہہ جانے سے ہلاک ہوئے ہیں۔
جعفرآباد اور نصیر آباد میں تین روز سے بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے کئی مکانات کی دیواریں اور چھتیں گر گئی ہیں سابقہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد کی جھونپڑیاں اڑ گئی ہیں۔
جعفرآباد سے مقامی صحافی ہاشم بلوچ نے بتایا ہے کہ جھل مگسی، گندھاوا، جعفرآباد، نصیر آباد میں بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں۔ درگاہ فتح پور کے منتظمین نے بتایا ہے کہ ان کے علاقے میں ابھی تک امدادی کارروائیاں شروع نہیں ہوئی ہیں۔
ان علاقوں سے لوگوں نے بتایا ہے کہ انہیں کوئی امدادی اشیاء نہیں مل رہیں۔ ایک زمیندار ذوالفقار نے بتایا کہ ان کے گاؤں میں انتظامیہ کا کوئی اہلکار پوچھنے بھی نہیں آیا کہ لوگ کس حال میں پڑے ہوئے ہیں۔
ادھر صوبائی ریلیف کمشنر خدابحش بلوچ دعویٰ کہ حالات قابو میں ہیں اور لوگوں کو امدادی اشیاء مل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ غلط ہے کہ امدادی اشیاء نہیں مل رہیں۔ انہوں نے کہا کہ گیسٹرو سے اب تک پورے صوبے میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن باقی ہلاکتوں کی انہیں اطلاع نہیں ہے۔
ادھر ہنگول دریا میں شدید طغیانی سے ساحلی شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہو گئی ہے اور حب ڈیم میں پانی خطرے کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔