http://www.bbc.com/urdu/

Wednesday, 01 August, 2007, 10:14 GMT 15:14 PST

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

اقبال کاظمی کی بیوی پر تشدد

کراچی میں بارہ مئی واقعے کے بارے میں پٹیشن دائر کرنے والے سماجی کارکن اقبال کاظمی کی بیوی اور بردار نسبتی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔

اقبال کاظمی کی بیوی سعدیہ کاظمی نے بتایا ہے کہ وہ بدھ کی صبح اپنے بھائی عمران کے ساتھ ہائی کورٹ میں شوہر کی سماعت پر آرہی تھیں کہ ڈیفینس کے علاقے سے ایک پراڈو گاڑی میں سوار مسلح افراد نے انہیں رکشہ سے اتار کر اغوا کرلیا۔

سعدیہ کاظمی کا کہنا تھا کہ ان کی آنکھوں پر سیاہ پٹیاں باندھی گئی تھیں اور انہیں ماراپیٹا گیا اور ایک نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔

سعیدہ کاظمی کی بائیں کلائی شدید زخمی تھی اور اس سے خون رس رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے ان کی کلائی کو کسی تیز دھار چیز سے کاٹا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں کہ انہیں آخر کیوں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، سعدیہ کاظمی کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ بارہ مئی واقعے کے بارے میں پٹیشن واپس لیں منی لانڈرنگ کے حوالے سے جو درخواست دائر ہے اس کی پیروی نہ کریں بصورت دیگر زندہ رہنے نہیں دیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ مدد کے لئے پکارتے رہے مگر کوئی نہیں آیا پھر تھوڑا چلتے ہوئے سڑک تک پہنچے اور وہاں سے ٹیکسی میں ہائی کورٹ آگئے۔

سعدیہ کاظمی اور عمران کو سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد کے چیمبر میں پیش کیا گیا، انہوں نے سعدیہ کاظمی کو گارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کی اور ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی ان کے تحفظ کو یقینی بنائی جائے۔

سعدیہ کاظمی کے بھائی عمران کا کہنا ہے کہ ان کو تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعے میں وہ ہی ملوث ہیں جو بارہ مئی واقعے اور منٹی لانڈرنگ میں ملوث رہے ہیں۔

ہائی کورٹ میں اقبال کاظمی نے بار بار یہ کہا کہ انہیں دھمکیاں دی جارہی ہیں ان کا قصور صرف یہ ہے کہ انہوں نے بارہ مئی واقعے کے حوالے سے پٹیشن دائر کی ہے۔
عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی اقبال کاظمی پر ماتحت عدالتوں میں جو بھی مقدمات زیر سماعت ہیں انہیں جلد نمٹایا جائے۔

واضح رہے کہ اقبال کاظمی نے ایک عام شہری کی حیثیت سے سندھ ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی تھی جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ بارہ مئی کے واقعات میں وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم، متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین، صوبائی مشیر داخلہ، وفاقی سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری داخلہ، آئی جی سندھ، سی سی پی او کراچی کو فریق بنایا جائے اور جوڈیشل انکوائری مقرر کی جائے، عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کر رکھے ہیں۔

یہ پٹیشن دائر کرنے کے بعد اقبال کاظمی کو فراڈ کے ایک مقدمے میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔