BBCUrdu.com Launch BBC Media Player
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 August, 2007, 03:57 GMT 08:57 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
ٹورنٹو میں جناح کا مجسمہ ٹوٹ گیا
 

 
 
محمد علی جناح
ڈیڑھ میٹر اونچے اس مجسمے کو یارک یونیورسٹی کےشعبہ فائن آرٹس کےایک طالبعلم ڈیوڈ میکڈوگل نےتیار کیا
حکومت پاکستان کے تعاون سے کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں واقع یارک یونیورسٹی میں چند ماہ قبل نصب کیا جانے والا بانی پاکستان محمد علی جناح کا مجسمہ چند روز قبل پراسرار طور پر ٹوٹا ہوا پایا گیا ہے۔

سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ مجسمہ زیادہ وزنی ہونے کی وجہ سے اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور زمین پر گر کر ٹوٹ گیا۔

یارک یونیورسٹی کا محکمہ سکیورٹی اور ٹورنٹو پولیس اس واقعہ کی تفتیش کر رہے ہیں۔ پاکستانی سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے صدر بابر قریشی نے بتایا کہ
’جب انہوں نے یارک یونیورسٹی کی سکیورٹی کے اہلکار سے اس واقعے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ نشے میں مدہوش کچھ شرپسندوں نے اس مجسمے کے ٹکڑے کر دیے۔‘

تین حصوں پر مشتمل چوبیس ہزار ڈالر کی لاگت سے بنائے گئے اس مجسمے کو اس برس جنوری کے مہینے میں یارک یونیورسٹی کے کرٹس ہال کی شمالی راہداری میں نصب کیا گیا تھا۔

اس سے قبل قائد اعظم کے نام سے یارک یونیورسٹی میں سکالرشپ بھی قائم کیا گیا تھا۔ بابر قریشی کا کہنا ہے کہ کسی یونیورسٹی کے کیمپس پر دنیا بھر میں یہ پہلی جگہ تھی جہاں پر قائداعظم کا مجسمہ نصب کیا گیا تھا۔
محمد علی جناح کا ٹوٹا ہوا مجسمہ
بانی پاکستان محمد علی جناح کا مجسمہ چند روز قبل پراسرار طور پر ٹوٹا ہوا پایا گیا ہے

ڈیڑھ میٹر اونچے پتھر سے بنائے گئے اس مجسمے کو یارک یونیورسٹی کے شعبہ فائن آرٹس سے فارغ التحصیل ایک طالبعلم ڈیوڈ میکڈوگل نے تیار کیا تھا۔ مجسمہ بنانے کے لیے فنکار نے دس روپے والے پاکستانی سکے پر موجود جناح کی تصویر کا انتخاب کیا تھا۔

یارک یونیورسٹی کےڈائریکٹر میڈیا ریلیشنز ایلکس بلک نے بی بی سی کو بتایا کہ ’رات کے تین بجے کے قریب سکیورٹی ملازمین نے شور سنا اور ان کو گرے ہوئے مجسمے کا علم بعد میں ہوا تھا۔ اس رات علاقے میں کوئی مشکوک کارروائی نہ دیکھی گئی۔‘

مسٹر ایلکس بلک کے مطابق یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ مجسمہ کافی وزنی تھا اور اس کی تنصیب مناسب طریقے سے نہ ہو سکی جو اس کے ٹوٹ کر گرنے کی وجہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزید تحقیق کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجسمے کو مرمت کیا جائے گا۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے یارک ریجن پولیس کو اطلاع کردی ہے مگر یونیورسٹی حکام نےاس واقعہ کو نسلی تعصب کی کارروائی قرار نہیں دیا۔ یاد رہے کہ کینیڈا میں پاکستانی نژاد طلباء وطالبات کی سب سی بڑی تعداد یارک یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے۔

 
 
اسی بارے میں
دختر قائد مزار قائد پر
26 March, 2004 | پاکستان
پاکستانی تارکین وطن گرفتار
16 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد