|
رازق بگٹی کیلیے فاتحہ سے انکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان اسبملی میں ڈپٹی سپیکر اسلم بھوتانی نے پیر کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی کی ایصال ثواب کیلیے فاتحہ کی اجازت نہیں دی اور حکومتی ارکان بھی خاموش رہے۔ البتہ اسمبلی میں افغانستان کے سابق شاہ ظاہر شاہ اور بلوچستان کے سابق ایم پی اے مولانا اسحاق خوستی کیلیے فاتحہ ہوئی۔ بی بی سی کو اس کی وجہ بتاتے ہوئے اسلم بھوتانی نے کہا کہ رازق بگٹی نہ تو پارلیمنٹ کے رکن رہے اور نہ ہی وہ حکومت بلوچستان کے باقاعدہ ملازم تھے۔ دوسری جانب اسمبلی نے بلوچستان میں سیلاب سے تباہ کاریوں کے حوالے ایک مشترکہ قرارداد لانے کی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں یا تو ارکان اسمبلی کیلیے یا پھر اہم شخصیات کیلیے فاتحہ خوانی ہوتی ہے، ہرکسی کیلیے نہیں ہوتی ہے اور یاد رہے کہ رازق بگٹی کو تقریبا دو ہفتے قبل کوئٹہ میں مبینہ طور پر بلوچ شد ت پسندوں نے قتل کر دیا تھا جس کے بعد پولیس ایک سو پچاس مشکوک افراد کوگرفتار بھی کر چکی ہے۔ گرفتار کیے جانے والے ان لوگوں میں زیادہ تر بلوچ طلبہ تنظیم بی ایس او کے کارکن ہیں۔ دوسری جانب بلوچستان اسمبلی میں نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی جان محمد بلیدی نے صوبے میں سیلاب سے تباہ کاریوں کے حوالے سے ایک تحریک التوا پیش کی جو بعد میں حزب اختلاف اور حکمران جماعتوں کے ارکان نے نو اگست کو ایک مشرکہ قرارداد لانے کی منظوری دی۔ تحریک التواءکے محرک جان محمد بلیدی نے بی بی سی اردوڈاٹ کام کوبتایا کہ چھبیس جون کے سیلاب اور بارشوں نے تیس بتیس اضلاع کو شدید متاثر کیا ہے مگراس کے باوجود حکومت نے نہ تو ان لوگوں کی امداد کی ہے اور نہ ہی کوئی انٹرنیشنل کانفرنس بلائی ہے اور نہ ہی لوگوں کیلیے مکانات کی تعمیر کا کام شروع ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے اب تک صوبے کے مختلف علاقوں میں متاثرہ لوگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں کیونکہ ان لوگوں کے مال مویشی اور زراعت مکمل طور پر تباہ ہوئی ہے۔ اس موقع پر وزیراعلی بلوچستان میر جام محمد یوسف نے کہا کہ صوبہ بھرمیں امدادی کام تیزی سے جاری ہے اور صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ متاثرہ افراد کے مکانات کی تعمیر کا کام شروع کیا جائے کیونکہ جب تک انہیں مکانات نہیں بنا کردیے جائیں گے اس وقت تک یہ لوگ مانگتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک دو سو تین افراد ہلاک اور ایک سو پچانوے لاپتہ ہیں۔ اس کے علاوہ صوبائی حکومت نے مکان کی تعمیر کیلیے ستر ہزار سے ایک لاکھ تک اور فصلوں کی تباہی کے لیے دس ہزار فی ایکڑ دینے کی تجویز دی ہے۔ واضع رہے کہ صوبے میں مختلف غیر سرکاری اور عالمی فلاحی اداروں نے کہاہے کہ انہیں حکومت کی جانب سے فلاحی کاموں کیلیے این او سی لینے میں دشواریاں درپیش ہیں۔ آزاد ذرائع سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ بتاتے ہیں جب کہ ایک لاکھ سے زیاد ہ مکانات منہدم ہونے کی تصدیق کر رہے ہیں لیکن صوبائی حکومت کے مطابق کہ حالیہ سیلاب اور بارشوں سے چونتیس ہزار مکانات تباہ ہوئے ہیں۔ |
اسی بارے میں کوئٹہ دھماکہ، بگٹی کے گھر چھاپہ30 May, 2007 | پاکستان بے بس و بے گھر مہاجر بلوچ04 June, 2007 | پاکستان بگٹی کے پوتے کی گرفتاری کا دعویٰ08 June, 2007 | پاکستان ’فوجی حکم ہے کہ ڈیرہ بگٹی جانا منع ہے‘13 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||