http://www.bbc.com/urdu/

ایوب ترین
کوئٹہ

لاپتہ افراد کے لیے بھوک ہڑتال

بلوچ نوجوانوں کی مبینہ جبراً گمشدگیوں کے خلاف خواتین نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا اور سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل کی کہ وہ معاملے کا نوٹس لے۔

احتجاج کرنے والی خواتین نے اعلان کیا کہ اگر حکومت اغواء کیے گئے نوجوانوں کو منظر عام پر نہ لائی تو وہ تا دمِ مرگ بھوک ہڑتال کر ینگی۔ ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کو دراصل پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے نامعلوم مقامات پر حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے، جہاں انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

ہڑتالی کیمپ میں شریک شکر بی بی بلوچ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ واحد قمبر چودہ مارچ سے لاپتہ ہیں اور انہیں ڈھونڈنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے مگر کسی ادارے سے پتہ نہیں چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی قبائلی روایات میں تو بلوچ خواتین کی چادر پر لوگوں کے خون معاف ہوتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے آج بلوچوں کی جنگ ایسے دشمن سے ہے جوقبائلی روایات سے نالاں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومتی خفیہ ایجنسیوں نے ہزاروں بلوچوں کو ٹارچر سیلوں میں بند کر رکھا ہے، جہاں ان پر جسمانی تشدد ہو رہا ہے۔ شکر بی بی بلوچ نے کہا کہ بلوچ نوجوان اس وقت بلوچستان کی آزادی اور خود مختاری کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

پاکستان بار کونسل کے رہنماء علی احمد کرد نے کہا ہے کہ چیف جسٹس کی بحالی عوام اور وکلاءکی جدوجہد اور قربانیوں کا نتیجہ ہے اور اب امید ہے کہ آزاد عدلیہ پورے ملک کی عوام کو انصاف اور بالخصوص لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے میں اپنا کردار ادا کرینگی۔

انہوں نے کہا کہ خفیہ اداروں نے تین سالوں سے سینکڑوں افراد کو بغیر کسی الزام کے قید کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے رشتہ دار جن میں خواتین، بچے اور بوڑھے شامل ہیں اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کےلیے جب سپریم کورٹ کے باہر اکٹھے ہوتے ہیں تو دل رکھنے والا کوئی بھی شخص یہ جذباتی منظر دیکھنے کی سکت نہیں رکھتا۔