Wednesday, 11 July, 2007, 18:32 GMT 23:32 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
بلوچستان میں حالیہ سیلاب اور بارشوں سےکوئی پانچ ہزار دیہات متاثر ہوئے ہیں اور صوبائی حکومت کے مطابق ریلیف کا کام مزید دو ہفتے تک جاری رہے گا جبکہ دوسری جانب بیشتر علاقوں سے لوگوں نے کہا ہے کہ انہیں امداد نہیں مل رہی۔
صوبائی وزیر ریوینیو عاصم کرد گیلو نے کہا ہے کہ ضلعی سطح پر قائم کمیٹیاں نقصانات کا تخمینہ لگا رہی ہیں اور دوسری طرف اقوام متحدہ اور دیگر تنظیمیں بھی سیلاب اور بارشوں سے ہونی والی تباہی کا جائزہ لے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے تئیس اضلاع میں بیس لاکھ سے زیادہ لوگ اور پانچ ہزار دیہات سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ صوبائی وزیر نے دعٰوی کیا ہے کہ متاثرین کے لیے دو سو سے زیادہ ہیلی کاپٹر اورایک سو تیس طیاروں کی پروازوں کے ذریعے امدادی اشیاء تقسیم کی گئی ہیں جبکہ ٹرکوں اور ٹرینوں کے ذریعے امداد کی فراہمی اس سے علیحدہ ہے۔
اس کے برعکس کئی علاقوں سے تاحال شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ انہیں کوئی امداد نہیں مل رہی۔ تربت کے علاقے ڈنڈار سے لوگوں نے بتایا ہے امداد تو دور کی بات ابھی تک سڑکوں کا رابطہ بحال نہیں ہوا ہے۔
اسی طرح ناگ زعمران سے لوگوں نے بتایا ہے کہ ان کے پاس کوئی ہیلی کاپٹر یا امداد نہیں پہنچی۔ خضدار کی تحصیل نال میں گریشک سے یونین کونسل کے ناظم نے بتایا ہے کہ بارش کا پانی استعمال کرنے سے گیسٹرو کی بیماری پھیل گئی ہے۔
جبکہ ادھر جاؤ سے مقامی صحافی ابراہیم نے بتایا ہے کہ ان کے علاقے سے چونسٹھ لاشیں نکالی گئی ہیں اور اب تک علاقے میں شدید بو ہے جس سے بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ ہے۔
حکومت نے اب تک ایک سو ساٹھ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے جبکہ مختلف علاقوں سے لوگوں نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں شدید گرمی کی وجہ سے لوگوں نے کہا ہے کہ انہیں ٹینٹ خوراک اور ادویات کی ضرورت ہے۔ صوبائی وزیر عاصم کرد گیلو
نے کہا ہے کہ جلد ایک لاکھ ٹینٹ متاثرین میں تقسیم کیے جائیں گے۔
~RS~q~RS~~RS~z~RS~14~RS~)