Thursday, 05 July, 2007, 07:07 GMT 12:07 PST
بیورو رپورٹ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی انتظامیہ سے مذاکرات کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسجد میں مورچہ بند ہتھیاربندوں کے خلاف تین روز سے جاری آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں اب تک انیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جامعہ حفصہ کے نائب مہتمم عبدالرشید غازی مسجد کے تہہ خانہ میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور تیس کے قریب طلبا و طالبات کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
آفتاب شیرپاؤ نے صحافیوں کو بتایا کہ تین روز کے دوران جامعہ حفصہ اور لال مسجد سے تعلق رکھنے والے چھ سو طلبا اور تین سو طالبات باہر آچکے ہیں۔
دریں اثناء اطلاعات کے مطابق عبدالرشید غازی اور ان کے محافظوں نے اس شرط پر ہتھیار ڈالنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے کہ انہیں اور ان کی بیمار والدہ کو اس وقت تک مسجد میں رہنے کی اجازت دی جائے جب تک رہائش کے لیے کسی متبادل جگہ کا انتظام نہیں ہو جاتا۔
تاہم وزارتِ داخلہ کے ترجمان بریگیڈئر جاوید چیمہ نے جوابی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ عبدالرشید غازی اور ان کے مسلح ساتھیوں کو بغیر کسی شرط کے ہتھیار ڈالنا ہونگے۔
اس سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مدرسے سے نکلنے والے تمام طلبا و طالبات کی مکمل ڈی بریفنگ کی جائے گی اور پوری تسلی کے بعد ہی انہیں چھوڑا جائےگا۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوران کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ نے اقدامات کر لیے گئے ہیں اور شہر کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔
ادھر اطلاعات کے مطابق لال مسجد کے اوپر تقریباً تین گن شپ ہیلی کاپٹر اڑتے ہوئے دیکھے گئے ہیں، جن میں سے مسجد پر بظاہر گیس کے گولے پھینکے گئے ہیں۔
اس دوران مسجد سے ملحقہ مدرسہ حفصہ کی چند طالبات کے والدین نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مسجد کے اندر مزید دس بارہ لاشیں موجود ہیں تاہم لال مسجد کے نائب مہتمم عبدالرشید غازی نے اس کی تردید کی اور کہا کہ مذکورہ افراد زخمی ہیں۔
جمعرات کو رضاکارانہ طور پر باہر آنے والے افراد اپنے ساتھ ایک عمر رسیدہ شخص کی میت بھی لائے تھے۔
طلبہ کے باہر آنے سے قبل پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے زیر حراست مولانا عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ ان کے اندازے کے مطابق ابھی تک لگ بھگ اڑھائی سو طلبہ مسجد کے اندر موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کے پاس کم از کم چودہ کلاشنکوف بندوقیں بھی ہیں۔
مولانا عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ وہ خود کو پولیس کے حوالے نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ وہاں سے نکل جانا چاہتے تھے، لیکن وہ پولیس کے ہتھے چڑھ گئے۔
دھماکوں کے بعد شدید فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں، تاہم تقریباً بیس منٹ بعد دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں بند ہوگئیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک سرکاری اہلکار نے اپنا نام ظاہر کیے بغیر کہا کہ ’ یہ دھماکے محض وارننگ تھے اور ہم ابھی تک مسجد میں داخل نہیں ہوئے ہیں۔‘
اسلام آباد کے ایک ہسپتال کے ذرائع کا کہنا تھا کہ جمعرات علی الصبح کی فائرنگ میں مزید افراد زخمی ہوئے ہیں جس سے خدشہ ہے کہ حکومت کی جانب سے بتائی جانے والی ہلاکتوں کی تعداد (سولہ) میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
سکیورٹی فورسز نے لال مسجد کے اندر شدید شیلنگ بھی کی ہے جس کے بعد علاقے میں سیاہ دھویں کے بادل چھاگئے ہیں۔ آپریشن کے بعد لال مسجد کی قریبی مسجد سے اعلان کیا گیا کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ہے، لہذا اندر موجود افراد ہتھیار ڈال دیں اور خود کو قانون کے حوالے کردیں ورنہ نتائج کی ذمہ داری ان پر عائد ہوگی۔
مسجد کے نائب مہتمم غازی عبدالرشید غازی نے بظاہر اپنے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے کوئی جرم نہیں کیا ہے کہ ہتھیار ڈالیں۔‘ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ مسجد کے اندر سے فائرنگ کی گئی ہے اور کہا کہ انہوں نے دفاعی پوزیشن اختیار کر رکھی ہے۔
جمعرات کی صبح عبدالرشید غازی نے دعویٰ کیا کہ مسجد پر ٹینکوں سے گولے پھینکے گئے ہیں جس سے مسجد کے گیٹ اور دیوار کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مسجد اور جامعہ حفصہ کے اندر اس وقت بھی طلبہ کے علاوہ ایک ہزار طالبات موجود ہیں تاہم ان کی طرف سے اجازت ہے جو جانا چاہے جاسکتا ہے۔
لال مسجد کے خطیب اور غازی عبدالرشید کے بڑے بھائی مولانا عبدالعزیز کو بدھ کی رات اس وقت گرفتار کر لیا گیا تھا جب وہ برقعہ پہنے مسجد سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔
(ہارون رشید، مظہر زیدی، احمد رضا اور نیئر شہزاد کی رپورٹوں پر مبنی)
~RS~q~RS~~RS~z~RS~02~RS~)