Wednesday, 04 July, 2007, 16:54 GMT 21:54 PST
بیورو رپورٹ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ برقعہ پہن کر مسجد سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ پولیس نے مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ ام حسن کو بھی گرفتار کر لیا۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ مولانا عبدالعزیز برقعہ پہن کر جامعہ حفصہ کی ان طالبات کی لائن میں کھڑے ہو گئے جنہوں نے حکومت کی طرف سے عام معافی کے اعلان کے بعد خود کو حکام کے حوالے کر دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ تلاشی کے دوران لیڈی پولیس کانسٹیبل نے جب بظاہر ایک خاتون کا برقعہ اتارا تو اندر سے مولانا عبدالعزیزبرآمد ہوئے جس پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
![]() | |
| باہر آنے والوں طالبعلموں کو پانچ ہزار روپے فی کس دینے کا اعلان کیا گیا ہے |
اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق بدھ رات تک لال مسجد سے ملحقہ مدرسوں کے بارہ سو زائد طلبا و طالبات نے خود کو سرکاری اہلکاروں کے حوالے کر دیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس تعداد میں اضافہ ہوگا۔
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ گرفتار شدہ بارہ سو افراد میں سے ایک سو پچاس کو اڈیالہ جیل بھجوا دیا گیا ہے، دو سو کو اپنے گھروں کو جانے کی اجازت دے دی گئی جبکہ باقی افراد سے ابھی پوچھ گچھ جاری ہے۔
اس دوران مذہبی امور کے وفاقی وزیر اعجازالحق نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے زیر حراست مولانا عبدالعزیز سے ملاقات کی ہے اور انہیں کہا ہے کہ وہ اپنے بھائی کو بھی خود کو حکام کے حوالے کرنے کے لیے کہیں۔
وفاقی وزیر کے مطابق مولانا عبدالعزیز نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو یہ مشورہ دیں گے۔ اعجاز الحق کے مطابق مولانا عبدالعزیز کی عبدالرشید سے بات کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ چھ ما کے عرصے میں مولانا عبدالعزیز کے خلاف دہشت گردی کے سات مقدمات درج ہیں اور انہیں عدالت نے اشتہاری قرار دیا ہوا ہے۔
اس سے قبل بدھ کی شام لال مسجد کے باہر ایک مرتبہ پھر فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا تاہم مسجد کے قرب و جوار کے علاقے میں تاحال کرفیو نافذ رہا۔ مسجد میں مورچے خالی پڑے ہوئے تھے اور اکا دُکا طلبا اور طالبات لال مسجد چھوڑ کر باہر آ رہے تھے۔
مسجد کے سامنے سرکاری کواٹرز تقریباً خالی ہو گئے۔ مسجد کے سامنے کواٹرز میں رہنے والے ایک رہائشی یاسین نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا کہ صبح سے فائر بندی تھی اور مذاکرات جاری تھے لیکن بعد میں ایک ایک کرکے طلبہ و طالبات مسجد اور مدرسے سے نکلنا شروع ہوگئے۔
اس سے قبل ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ بدھ سہ پہر تک سات سو طلبہ اور طالبات جامعہ حفصہ اور لال مسجد سے باہر آئے۔ چوہدری محمد علی کا کہنا تھا کہ ان سات سو میں سے دو سو بیس طالبات جبکہ باقی طالبعلم ہیں۔
باہر آنے والے طلبا سے حکام نے کاغذوں پر انگوٹھے لگوائے گئے اور یہ اعلانات کیے جاتے رہے کہ باہر آنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔تاہم بعد دوپہر حکام نے والدین کی رجسٹریشن اور انہیں اندر بھجوانے کا سلسلہ بند کردیا اور انہیں کہا کہ وہ وہاں سے چلے جائیں۔
![]() | |
| لال مسجد میں موجود طالبات کے والدین اپنی بچیوں کے منتطر ہیں |
لال مسجد اور رینجرز اور پولیس میں منگل کو وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا جس میں بارہ افراد ہلاک جبکہ تقریباً ایک سو چودہ زخمی ہوئے۔
اس سے قبل لال مسجد کے مہتمم مولانا عبدالرشید غازی نے بی بی سی سے ٹیلی فون پر مختصر بات چیت میں اس بات سے انکار کیا کہ باہر نکلنے کے خواہشمند طلبا اور طالبات کو روکا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ علماء اس معاملے میں پڑ گئے ہیں اور اس کا حل نکل سکتا ہے۔
حکومت نے منگل اور بدھ کی درمیانی رات لال مسجد کے علاقے میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے مسجد کے طلبہ کو پرامن طریقے سے ہتھیار ڈالنے کے لیے کہا تھا۔ ہتھیار ڈالنے کے لیے کوئی ڈیڈلائن مقرر نہیں کی گئی تاہم کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے ہر شخص کوگولی مارنے کا حکم دیا گیا تھا۔
آبپارہ تھانے میں لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز، ان کے بھائی اور ترجمان مولانا عبدالرشید غازی سمیت چار سو افراد کے خلاف قتل، اقدام قتل، دہشتگردی اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق مسجد کے اطراف میں تعینات رینجرز اور مسجد کے احاطے اور اس سے ملحقہ سڑک پر مورچہ بند طلباء کے درمیان منگل کو کشیدگی شروع اس وقت شروع ہوئی تھی جب مسجدِ حفصہ کی درجنوں طالبات نے مسجد سے نکل کر سڑک پر مارچ شروع کر دیا۔ مشتعل طلباء و طالبات ’الجہاد الجہاد‘ اور ’اللہ اکبر اللہ اکبر‘ کے نعرے بلند کر رہے تھے۔
اس سے پہلے بھی لال مسجد انتظامیہ حکومتی کارروائی کی صورت میں خودکش حملوں کی دھمکی دیتی رہی ہے۔
![]() | |
| وزارتِ ماحولیات کی عمارت اور اس کے احاطے میں کھڑی گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی |
(ہارون رشید، مظہر زیدی، انتخاب امیر، آصف فاروقی، نیئر شہزاد، محمد اشتیاق)
~RS~q~RS~~RS~z~RS~01~RS~)