Tuesday, 03 July, 2007, 14:01 GMT 19:01 PST
محمد اشتیاق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد
لال مسجد کے باہر رینجرز اور مسلح طالب علموں کے درمیان فائرنگ شروع ہونے کے بعد سے ہی قریب ہی واقعہ پولی کلینک ہسپتال میں زخمیوں تانتا بندھ گیا۔
کچھ زخمیوں کو پمز اور سی ڈی اے ہسپتالوں میں بھی لایا گیا۔
ڈاکٹر شریف استوری کا کہنا ہے کہ جامعہ حفصہ کی طالبات میں سے اکثریت آنسوگیس سے متاثر ہوئی تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں لائی جانے والی تمام طالبات کی حالت خطرے سے باہر ہے اور اُن کو شام تک ہسپتال سے فارغ کر دیا جائے گا۔
’جب میں ہسپتال لائی جانی والی طالبات، طالبلعموں اور دیگر زخمیوں کے بارے میں جاننے کے لیے ہسپتال پہنچا تو ہسپتال کے باہر پولیس کی ایک بھاری تعداد موجود تھی اور سوائے میڈیا کے لوگوں کے کسی کو ہسپتال کی چار دیواری کے اندار داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔ لیکن ہسپتال کے اندر داخل ہونے والے دروازے پر قبضہ پولیس کا نہیں بلکہ لال مسجد سے تعلق رکھنے والے طالبعملوں کا تھا جو زخمی طالبات اور طالبلعموں کے ساتھ ہسپتال آئے تھے اور وہ کسی کو بھی ہسپتال کے اندر داخل ہونے نہیں دے رہے تھے۔
![]() | |
| لال مسجد کے اندر موجود ایک نوجوان اشک آور گیس سے بچاؤ کا ماسک پہنے ہوئے ہے |
طالبعلموں کی گرفتاری کے بعد میڈیا کے لوگ بھی ہسپتال میں داخل ہو گئے۔
لال مسجد کے طالبعلم اور طالبات جو گولیاں لگنے کے باعث زخمی ہوئے اُن سے تو میڈیا کے لوگوں کو نہیں ملنے دیا گیا البتہ نجی ٹیلی وژن چینل سے تعلق رکھنے والے صحافی ابصار عالم اور پولیس کے زخمی ہونے والے حوالدار رب نواز اور جامعہ حفصہ کی ایک طالبہ سے ملنے کے لیے آنے والے آفتاب احمد جن کو کمر اور ٹانگ میں گولیاں لگی ہیں۔
ابصار عالم کا کہنا تھا کہ وہ لال مسجد کے سامنے واقعے ایک سکول کی دیوار کے ساتھ کھڑے تھے کہ اچانک اُن کے سر پر کوئی بھاری چیز لگی جس کے بعد وہ گر گئے اور تھوڑی دیر میں اُن کے ایک ساتھی نے اُن کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر ہسپتال پہنچایا۔
اسلام آباد پولیس کے حوالدار ربنواز کا کہنا تھا کہ وہ بکتر بند گاڑی میں تھے اور وہ لال مسجد کے طالب علموں پر آنسو گیس پھینک رہے تھے کہ اچانک ایک گولی ان کے بازو پر لگ گئی۔ اُس کے بعد کچھ پتہ نہیں چلا کہ کیا ہوا، میرے ساتھی مجھے یہاں لے کر آئے۔
ہسپتال میں موجود ایک اور زخمی آفتاب احمد کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ماموں کی بیٹی سے جو جامعہ حفصہ میں پڑھتی ہیں ملنے آئے تھے، آفتاب کا کہنا تھا کہ وہ جامعہ حفصہ کے باہر پہنچے ہی تھے کے جھگڑا شروع ہو گیا اور دو گولیاں اُنہیں لگیں۔ آفتاب کا کہنا تھا کہ لال مسجد والے اور پولیس والے ایک دوسرے پر فائرنگ کر رہے تھے۔
ایک گولی میرے بازو پر لگی |
پولی کلینک کے ترجمان ڈاکٹر شریف استوری کا کہنا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ کہ پاس اب بھی کافی جگہ موجود ہے اور اگر مزید زخمی آتے ہیں تو اُن کا کے لیے تمام انتظام موجود ہیں۔ ڈاکٹر شریف کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ ہے اور تمام عملہ موجود ہے۔
~RS~q~RS~~RS~z~RS~44~RS~)