BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 16 July, 2007, 12:19 GMT 17:19 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
کوئٹہ: سرکاری اہلکار ہڑتال پر
 

 
 
فائل فوٹو
صوبائی سیکریٹری داخلہ نے بتایا ہے کہ ملزم کے خلاف اقدامِ قتل کا مقدمہ درج ہو چکا ہے
کوئٹہ میں واقع بلوچستان سول سیکریٹریٹ کے پانچ ہزار سے زائد سرکاری ملازمین نے پیر سے دوگھنٹے کی علامتی ہڑتال شروع کردی ہے۔ ہڑتال میں پہلی بارسیکریٹریوں نے بھی حصہ لیا ہے۔

ملازمین کی جانب سے یہ احتجاج جمعہ کو اس واقعہ کے خلاف شروع کیا گیا ہے جس میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والی صوبائی وزیر بہبود آبادی نسرین کھتران کے شوہر سردارعبدالرحمن کھتران نے سول سیکریٹریٹ کے اندر سیکریٹری انیس احمد گولہ کوان کے آفس میں جاکر مارا پیٹا جس سے وہ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

سول سیکریٹریٹ کے ملازمین کا کہنا ہے کہ جب تک سابق صوبائی وزیر اور قبائلی رہنما سردار عبدالرحمن کھتران گرفتار نہیں ہوں گے، اس وقت تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

صوبائی وزیر بہبود آبادی نسرین کھتران نے مذکورہ سیکریٹری پر بد عنوانی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کئی بار وزیراعلیٰ سے سفارش کی تھی کہ ان کو سیکٹریری بہبود آبادی کے منصب سے ہٹایا جائے جس پر انہوں نے جمعہ کو ڈرامہ کرکے میرے اور میرے شوہر کے خلاف ایک سازش کی ہے جس کا ہم ہر فورم پر دفاع کریں گے‘۔

انہوں نے بتایا:’اس سازش میں کچھ اور لوگ بھی ملوث ہیں جو مجھے وزارت سے ہٹانے کے چکر میں ہیں حالانکہ میں خود انیس احمد گولہ کے گھر گئی تھی تاکہ معاملہ کو رفع دفع کیا جائے‘۔ تاہم نسرین کھتران نے اس بات سے صاف انکار کیا کہ ان کے شوہرنے مذکورہ سیکریٹری پر کوئی تشدد کیا ہے۔

ڈپٹی سیکریٹری سی اینڈ ڈبلیو خالد بخش بلوچ نے کہا کہ محکمے کے وزیر کو یہ حق نہیں ہے کہ ان کے شوہر ان کے اختیارات کا ناجائز استعمال کریں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مذکورہ سردار خود وزیر نہیں ہیں لیکن وہ وزیر کی کرسی پربیٹھ کر احکامات جاری کرتے ہیں۔ خالد بلوچ کے مطابق اس سلسلے میں ملازمین نے حکومت کو اپنے خدشات سے آگاہ کر دیا ہے۔

سول سیکریٹریٹ افیسر ایسوسی ایشن کے صدر عطاء محمد کاکڑ نے کہا کہ مذکورہ سابق وزیر نے سیکریٹری بہبود کو اسلحہ کے زور پر یرغمال بنایا تھا۔

ہڑتال پنجاب سرحد میں بھی
 اگر سابق صوبائی وزیرکی گرفتاری جلد عمل میں نہیں لائی گئی تو سندھ، پنجاب اور سرحد میں بھی ہڑتال کی کال دی جائے گی
 
عطاء محمد کاکڑ

انہوں نے بتایا کہ سردارعبدالرحمن کھتران کے خلاف اقدامِ قتل کا مقدمہ درج ہے لیکن تین دن گزرنے کے باوجود ابھی تک ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا:’اگر سابق صوبائی وزیرکی گرفتاری جلد عمل میں نہیں لائی گئی تو سندھ، پنجاب اور سرحد میں بھی ہڑتال کی کال دی جائے گی‘۔

بلوچستان سول سیکریٹریٹ کے ایک عہدیدار خالد جگر کا کہنا تھا:’ سیکریٹریٹ میں تمام سرداروں اور بااثر افراد کے مسلح افراد کے ساتھ داخلے پر فوری پابندی لگائی جائے‘۔

انہوں نے کہا کہ جب تک مذکورہ سردارگرفتار نہیں ہوں گے اور مذکورہ خاتون وزیر کو برطرف نہیں کیا جاتا اس وقت تک ان کی ہڑتال جاری رہے گی۔

ان کے مطابق اگر حکومت نے آئندہ 24 گھنٹوں میں مطالبات تسلیم نہ کیے تو پرسوں سے مکمل ہڑتال شروع کی جائے گی۔

صوبائی سیکریٹری داخلہ طارق ایوب نے بتایا کہ قانون سب کے لیے ہے اور اس سلسلے میں ملزم کے خلاف اقدامِ قتل کا مقدمہ درج ہو چکا ہے اورحکومت کارروائی کر کے ملزم کو جلد گرفتار کر لے گی کیونکہ کوئی قانون کی پہنچ سے دور نہیں ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرسردارعبدالرحمن کی بیوی صوبائی وزیر نسرین کیھتران اس میں ملوث پائی گئیں توان کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔

پابندی کا مطالبہ
 سیکریٹریٹ میں تمام سرداروں اور بااثر افراد کے مسلح افراد کے ساتھ داخلے پر فوری پابندی لگائی جائے
 
بلوچستان سول سیکریٹریٹ کے ایک عہدیدار

اس واقعہ کے بعد صوبائی حکومت نے سول سیکریٹریٹ میں سادہ کپڑوں میں سرداروں اور نوابوں کے مسلح افراد کے داخلے پر پابندی لگادی اور جن سرداروں کوحکومت نے محافظ فراہم کیے ہیں وہ سہولت بھی جلد واپس لے لی جائےگی۔

سیکریٹری داخلہ نے تمام ہڑتالی ملازمین سے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا کہ بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے ہونے والے اقدامات اس ہڑتال کی وجہ سے متاثر ہوں گے۔

واضح رہے کہ سرکاری ملازمین بشمول سیکریٹریز کی ہڑتال کی وجہ سے ان افراد کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے جو اپنے کاموں کے لیے سول سیکریٹریٹ میں دن بھر پہلے ہی کام نہ ہونے کی وجہ سے پریشان حال گھومتے ہیں۔

یہاں یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ صوبے میں زیادہ تر ان سرداروں اور قبائلی معتبرین کو صوبائی حکومت کی جانب سے مسلح لیویز دیے گئے ہیں جن کی قبائلی دشمنیاں ہیں یا پھر وہ دوسروں کو نیچا دکھانے کے لیے مسلح گارڈز رکھتے ہیں۔ ان میں حکومت کے حامی بھی شامل ہیں اور زیادہ تر لوگ آزادی کے ساتھ پرائیویٹ گارڈ بھی ساتھ لے کر بغیر نمبر پلیٹ کے بڑی بڑی ’کابلی‘ گاڑیوں میں گھومتے رہتے ہیں۔

 
 
کوئٹہ(فائل فوٹو)بیروزگاروں کا مظاہرہ
کوئٹہ میں بے روزگاروں نے احتجاج کیا
 
 
کوئٹہ’ کوئٹہ بدل گیا‘
دو برس کے دوران کوئٹہ بدل سا گیا ہے
 
 
اسی بارے میں
کوئٹہ: فائرنگ 4 ہلاک
26 May, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد