Friday, 29 June, 2007, 14:36 GMT 19:36 PST
بیورو رپورٹ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ جُمعہ کو بارش کی وجہ سے بلوچستان کے ساحلی اور دیگر متاثرہ علاقوں میں امدادی کام بُری طرح متاثر ہوئے ہیں جبکہ مزید طوفان کے خدشے کے پیشِ نظر حکومت نے پاک فوج کے مزید دستوں کو ہنگامی صورتِحال کے حوالے سے تیار رہنے کا حُکم دیا گیا ہے۔
قُدرتی آفات سے پیدا ہونے والی صورتِحال سے نمٹنے کے لیے بنائےگئے ادارے ، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل فاروق احمد خان نے اسلام آباد میں جُمعہ کو پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ بارش کی وجہ سے جُمعہ کو کوئٹہ سے امدادی کاموں کے لیے ہیلی کاپٹروں کی پروازیں منسوخ کرنا پڑیں جس کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہوئے عوام تک رسائی بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بگڑتے موسم کی وجہ سے مزید تباہ کاریوں کے خدشے کے پیشِ نظر صوبائی حکومت صوبائی انتظامیہ سے دونوں صوبوں میں متواتر رابطے میں ہے جبکہ بلوچستان میں سنیچر سے چھ فوجی مال بردار طیارے سی ۔ ون تھرٹی طیارے امدادی کاروائیوں میں حصہ لیں گے۔
لیفٹننٹ جنرل فاروق احمد خان نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو طوفان کے ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے لیے کہا گیا تھا تاہم پیشگی اطلاع کے باوجود خطرے سے دو چار علاقوں کے لوگوں نے نقل مکانی نہ کی۔
انہوں نے دعوٰی کیا کہ بلوچستان کے ضلع تُربت میں سیلابی پانی میں گھرے ہوئے دو سو افراد کے علاوہ سبی میں تیس افراد ، ہنگول میں کوسٹل ہائی وے کے مختلف مقامات پر پانچ سو پھنسے ہوئے افراد میں سے ایک سو افراد اور سمندری طوفان میں گھرے ہوئے چھ سو مچھیروں کو زندہ بچا لیا گیا۔
فاروق احمد خان نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ متاثرہ علاقوں میں مرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اُن کے مطابق صوبائی حکومتوں کی جانب سے مہیا کردہ اعداد و شُمار کے مطابق اب تک سندھ میں کُل نوّے اور بلوچستان میں چودہ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور یہ تعداد غیر سرکاری اعداد و شُمار کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں چار بڑی شاہراہیں بری طرح متاثر ہونے کی وجہ سے کئی علاقوں سے رابطہ منقطع ہے جبکہ بجلی اور ٹیلیفون کا نظام بھی شدید متاثر ہونے کی وجہ سے متاثرہ علاقوں سے حقائق کا جاننا تاحال ممکن نہیں ہو سکا لہٰذا اس بات کا خدشہ ہے کہ مرنے والے افراد کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
![]() | |
| اصل صورتِحال تب ہی واضح ہوگی جب متاثرہ علاقوں تک رسائی مکمل طور پر ممکن ہو |
کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار کے مطابق بلوچستان میں متاثرین کو امدادی اشیاء کی باقاعدہ ترسیل تاحال شروع نہیں ہوسکی جبکہ دوسری جانب حزب اختلاف سے کے قائدین نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان سے انہیں مدد کی کوئی توقع نہیں ہے اس لیے انہوں نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی امدادی تنطیموں سے مدد کی اپیل کی ہے۔
کوئٹہ میں ریلیف کمشنر خدا بخش بلوچ نے بتایا ہے کہ مکران ڈویژن کے لیے امدادی جہاز سی ون تھرٹی اسلام آباد اور کراچی سے جائیں گے جبکہ کوئٹہ سے ایک ریل گاڑی جمعہ کی رات کو روانہ ہو رہی ہے جو سبی جائے گی اور پھر وہاں سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے امدادی اشیاء مختلف علاقوں جیسے جعفرآباد، بولان جھل مگسی، گندھاوا، نصیر آباد اور دیگر علاقوں میں پھینکی جائیں گی۔ اسی طرح نوشکی ماشکیل اور دالبندین کے لیے سنیچر کی صبح سڑک کا نظام بحال ہونے کے بعد امدادی سامان روانہ کر دیا جائے گا۔
بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری حبیب جالب ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ انھیں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے امداد کی کوئی توقع نہیں ہے اس لیے انہوں نے اقوام متحدہ بین الاقوامی امدادی تنظیموں یورپی ممالک اور عرب ممالک سے امداد کی اپیل کی ہے۔
کچکول علی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت تو اس قدرتی آفات کی تباہ کاریوں کی خبریں ایسے چھپا رہی ہے جیسے بلوچستان میں فوجی کارروائی سے ہونے والی ہلاکتوں کو چھپایا جا رہا تھا۔
حالیہ طوفان کی وجہ سے سندھ کے چار اور بلوچستان کے دس اضلاع شدید متاثر ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے متاثرہ اضلاع میں گوادر ، کیچ ، پسنی ، لسبیلہ ، اُرماڑہ ، پنجگُور ، خُزدار، جھل مگسی، جعفر آباد اور نصیر آباد شامل ہیں جبکہ سندھ میں ضلع کراچی، ٹھٹھہ ، حیدر آباد اور بدین موسمی خرابی سے بُری طرح متاثر ہوئے۔