Wednesday, 27 June, 2007, 15:55 GMT 20:55 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
بلوچستان میں تربت، پسنی اورماڑہ اور ادھر جھل مگسی اور بولان میں طوفانِ باد و باراں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ کم از کم بیس افراد کے ہلاک اور پندرہ ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ جب کہ بڑی تعداد میں لوگ مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ امدادی ٹیمیں تربت کی طرف روانہ کی گئی ہیں۔ تربت میں سولبند کے علاقے میں کچھ لوگ اٹھارہ گھنٹے سے ایک مسجد کی چھت پر پناہ لیے ہوئے ہیں جب کہ گندھاوا کے قریب بیس گھنٹے بعد کچھ لوگوں کو پانی سے نکال لیا گیا ہے۔
تربت شہر اور قریبی دیہاتوں میں ہر طرف پانی ہے، بڑی تعداد میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ میرانی ڈیم کی جھیل بھر جانے سے ڈیم کے قریب واقع دیہات خالی کر دیے گئے ہیں۔ دشت کے علاقے کو شدید خطرات لاحق ہیں جہاں کئی مکانات کو نقصان پہنچا ہے اور لوگ بے سرو سامانی کی حالت میں کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔
امداد کیلیے ایک بھی ہیلی کاپٹر نہیں |
پسنی اورماڑہ کے قریب کئی دیہات پانی میں مکمل ڈوب گئے ہیں جہاں لوگوں نے درختوں اور اونچے ٹیلوں پر پناہ لے رکھی ہے۔ مند اور تربت کے درمیان بجلی کے درجنوں کھمبے بھی گر گئے۔
بلیدہ میں جنتری کور ڈیم کو خطرہ لاحق ہے۔ پنجگور شہر میں شدید بارشوں سے کئی مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔
تحصیل کرخ کے ناظم نے کہا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ خضدار، قلات، زہری، گندھاوا، جھل مگسی اور بولان میں کئی علاقے زیر آب آگئے ہیں اور ایک ٹرک اور تین گاڑیوں کے بہہ جانے کی اطلاعات ہیں۔
بلوچستان کے بیشتر جنوبی اضلاع میں سڑکیں ٹوٹ چکی ہیں۔ پل بہہ گئے ہیں اور ڈیم کو خطرات لاحق ہیں لیکن دوسری جانب حکومت کی جانب سے تاحال امدادی کارروائیاں شروع نہیں ہو سکیں۔ اس بارے میں وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف نے کہا کہ چار ہیلی کاپٹر متاثرہ علاقوں کی طرف بھیج دیے گئے ہیں۔
![]() | |
کوئٹہ میں بلوچ طلباء نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ صورتحال میرانی ڈیم کی ناقص منصوبہ بندی سے پیدا ہوئی ہے۔ ان طلباء نے کہا ہے کہ بلوچستان میں مبینہ فوجی کارروائی کے لیے سینکڑوں ہیلی کاپٹر موجود تھے لیکن اب امداد کے لیے ایک بھی ہیلی کاپٹر نہیں ہے۔
نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا ہے کہ اتنی تباہی کے باوجود حکومت نے اب تک کوئی کارروائی شروع نہیں کی ہے۔