Monday, 25 June, 2007, 14:38 GMT 19:38 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
کراچی کے بعد بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
ضلع جھل مگسی کے علاقے گندھاوا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دریائے مولا میں شدید سیلابی ریلے سے کئی دیہات زیر آب آگئے ہیں لیکن تاحال کسی نقصان کی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔ مقامی افراد نے بتایا کہ آمدو رفت کے تمام رابطے منقطع ہو چکے ہیں اور حکومت کی طرف سے کسی قسم کی امدادی سرگرمیاں شروع نہیں کی گئی ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان ساحلی شہر پسنی میں ہوا ہے جہاں دو افراد کے ہلاک اور ایک کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جبکہ کل شام چکولی میں چار بچیاں ڈوب کر ہلاک ہو گئی تھیں۔
مکران ڈویژن کے دیگر شہروں گوادر، تربت، جیونی اور اورماڑہ میں بارشیں ہوئی ہیں لیکن پسنی میں ایک طرف سمندری کٹاؤ کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب شدید بارشوں سے گھروں میں پانی داخل ہو گیا ہے۔
پسنی سے مقامی صحافی امام بخش بہار نے بتایا کہ کل شام پسنی سے کوئی چالیس کلومیٹر دور چکولی میں چار بچیاں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں جبکہ پیر کی دوپہر کلمت کے علاقے میں کشتی ڈوب جانے سے دو ماہی گیر ہلاک
ہو گئے جبکہ ایک شخص زخمی ہوا۔
![]() | |
| تربت، گوادر اور دیگر علاقوں میں بارشیں ہوئی ہیں |
تربت، گوادر اور دیگر علاقوں میں بارشیں ہوئی ہیں۔ تربت سے مقامی لوگوں نے بتایا کہ نہنگ ندی میں پانی آگیا ہے لیکن نقصان کی اطلاع نہیں ہے جبکہ میرانی ڈیم سے متاثرہ افراد تو پہلے سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔ میرانی ڈیم میں پانی خطرناک حد کو پہنچ چکا ہے جس کے بعد پانی رہائشی علاقوں جیسے ناصر آباد، بلوچ آباد اور سولبند میں داخل ہو گیا ہے۔
لوگوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے نہ تو پہلے سے بے گھر اور متاثرہ افراد کی کوئی امداد کی ہے اور نہ ہی آئندہ بارشوں سے نمٹنے کے لیے کوئی احتیاطی اقدامات کیے ہیں۔
اُدھر کوئٹہ میں ریلیف کمشنر خدا بخش بلوچ نے صحافیوں کو بتایا کہ طوفانی بارشوں کی پیش گوئی کے بعد متاثرہ مقامات سے لوگوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے اور ضلعی حکومتوں کو ضروری سامان مہیا کیا جا رہا ہے۔