|
اشتہار ساز اداروں کیخلاف مقدمے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں طوفانِ باد و باراں کے دوران دیو قامت ہورڈنگز گرنے سے ہونے والی ہلاکتوں کے بعد پولیس نے دو اشتہار ساز اداروں کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں اور صوبائی مشیر داخلہ وسیم اختر نے ہدایت کی ہے کہ ان کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا جائے۔ کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی کا کہنا ہے کہ حکومتی کی جانب سے یہ مقدمات مالکان کے خلاف نہیں بلکہ اداروں کے خلاف دائر کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق ان کمپنیوں کے ہورڈنگز گرنے سے کوئی چار ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ صوبائی مشیر داخلہ وسیم اختر کا کہنا ہے کہ کنٹونمنٹ اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی سمیت تمام شہری اداروں کو کہا گیا ہے کہ ان کی حدود میں جو کمزور سائن بورڈ ہیں ان کو ہٹا دیا جائے۔ دوسری جانب ایک ایڈورٹائزنگ کمپنی کے اہلکار محمد امجد کا کہنا تھا کہ جو اموات ہوئی ہیں وہ بجلی کے کھمبے اور دیواریں گرنے سے ہوئی ہیں۔ ان کی اطلاعات کے مطابق صرف آٹھ افراد کی موت سائن بورڈ گرنے سے ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ چھوٹا یا بڑا جو بھی سائن بورڈ لگایا جاتا ہے۔ وہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہی لگایا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ شہر میں بغیر منظوری کے کوئی بورڈ لگا دیا جائے۔ شہر کی تمام اہم شاہراؤں پر بڑے بڑے سائن بورڈ آویزاں ہیں جن کے ذریعے مختلف اشیا کی پبلسٹی یا تشہیر کی جاتی ہے۔ طوفانی بارش کے دوران یہ سائن بورڈ یا تو راہ گیروں پر گرے یا بجلی اور ٹیلی فون کی تاروں پر جس سے مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا تھا۔ سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ شہری حکومت کی حدود میں کوئی بھی ہورڈنگ نہیں گرا ہے اور جتنے بھی ہورڈنگز گرے وہ تمام کنٹونمنٹ کے علاقوں میں گرے۔ |
اسی بارے میں کراچی: سینکڑوں گھر تباہ، بجلی پانی بند25 June, 2007 | پاکستان سندھ، بلوچستان میں سمندری طوفان کا خطرہ25 June, 2007 | پاکستان کراچی میں ایدھی محصور بے بس24 June, 2007 | پاکستان کراچی: بارش سے سینکڑوں ہلاک24 June, 2007 | پاکستان کراچی: بجلی کا بحران شدید تر21 June, 2007 | پاکستان کراچی میں بجلی کا شدید بحران 14 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||