احمد رضا بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی |  |
 | | | فائل فوٹو: بارہ مئی کو کراچی میں ہونے والا تشدد |
کراچی میں پیمرا قوانین میں کی گئی تازہ ترامیم کے خاتمے اور 12 مئی کے پرتشدد واقعات کی عدالتی تحقیقات کے لئے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے والے شہری اقبال کاظمی پراسرار طور پر لاپتہ ہونے کے دو دن بعد زخمی حالت میں ملے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں نامعلوم مقام پر مسلح افراد نے شدید اذیتیں دیں اور 5 دن میں اہل خانہ سمیت کراچی چھوڑنے کی دھمکی دی ہے۔ قیوم آباد کراچی کے رہائشی اقبال کاظمی بدھ کی شام اس وقت لاپتہ ہوگئے تھے جب وہ گلستان جوہر میں اپنے سسرال سے واپس گھر آرہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں دو مسلح افراد نے کورنگی روڈ سے اغواء کیا تھا اور نامعلوم مقام پر لے جاکر سخت تشدد کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ ’مجھے برہنہ کر کے میرے جسم کو سگریٹ سے داغا گیا، میری پشت جلائی گئی نازک حصوں کو جلایا گیا اور میں کس تکلیف میں تھا میں بیان نہیں کرسکتا۔ کھانے کے لئے مجھے کچھ نہیں دیا گیا۔‘ اقبال کاظمی نے مزید بتایا: ’انہوں نے مجھ سے کہا کہ یہ بتاؤ کہ تمہیں عدالت میں پٹیشنز وغیرہ داخل کرنے کے لئے پیسہ کون دے رہا ہے اور آپ کو کس ایجنسی کی مدد حاصل ہے؟‘  | بد کی شام لاپتہ ہوگئے تھے  قیوم آباد کراچی کے رہائشی اقبال کاظمی بدھ کی شام اس وقت لاپتہ ہوگئے تھے جب وہ گلستان جوہر میں اپنے سسرال سے واپس گھر آرہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں دو مسلح افراد نے کورنگی روڈ سے اغواء کیا تھا اور نامعلوم مقام پر لے جاکر سخت تشدد کا نشانہ بنایا۔  |
’میں نے کہا کہ جناب مجھے کسی ایجنسی کی مدد حاصل نہیں کی اور نہ میں نے ایسا کسی کی ہدایت پر کیا ہے اور نہ میں کسی سیاسی، مذہبی یا لسانی جماعت کا رکن ہوں۔ 12 مئی کو جو کچھ ہوا تو میں نے سوچا کہ سیاسی جماعتیں تو اس پر صرف بات کر رہی ہیں لیکن میں عملی طور پر کچھ کروں تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکے۔‘انہوں نے بتایا کہ اغواء کنندگان نے انہیں دھمکی دی کہ وہ اپنی دونوں پٹیشنز واپس لیں اور اہل خانہ سمیت 5 دن کے اندر کراچی چھوڑ کر چلے جائیں ورنہ ان کا بھی وہی حشر ہوگا جو ذیشان کاظمی کا ہوا تھا۔ ذیشان کاظمی پولیس انسپکٹر تھے جو 1992 میں اس وقت کے وزیر داخلہ جنرل نصیراللہ بابر کی سربراہی میں کراچی میں ہونے والے آپریشن کلین اپ میں ماورائے عدالت قتل کے حوالے سے متنازعہ شہرت کے حامل تھے اور 15 اکتوبر 2003 کو ان کی لاش سڑک کے کنارے بوری میں بند ملی تھی۔ اقبال کاظمی کا کہنا ہے کہ اغواء کنندگان نے ان سے چار پانچ سادہ کاغذوں پر ان کے دستخط لئے اور پھر انہیں بیہوش کردیا۔ اسکے بعد جمعہ کو دوپہر انہوں نے خود کو کلفٹن کے علاقے میں ساحل سمندر پر واقع ایک پارک میں پڑا پایا جس کے بعد انہوں نے اہل خانہ اور پولیس کو واقعے کی اطلاع کی اور ان کا طبی معائنہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اغواء کنندگان کون ہیں۔البتہ ان کی شکلیں انہیں یاد ہیں اور اگر پولیس ان کے خاکے تیار کروانا چاہے تو وہ اسکی مدد کرسکتے ہیں۔ کراچی پولیس نے تاحال واقعے کا مقدمہ درج نہیں کیا ہے اور اقبال کاظمی کا کہنا ہے کہ پولیس کو واقعے کی اطلاع دینے کے باوجود ان سے اب تک کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم کورنگی تھانہ جس کی حدود سے انہیں اغواء کیا گیا اور جہاں ان کی رہائش ہے اس کے ڈیوٹی افسر اے ایس آئی اعجاز کا کہنا ہے کہ ’ایس ایچ او صاحب اور دیگر افسر ان گھر گئے ہیں اور جب وہ واپس آئیں گے تو جس طرح کے حالات ہوں گے تو اس کے مطابق ایف آئی آر داخل کی جائے گی۔‘ ان کا کہنا ہے کہ وہ کراچی نہیں چھوڑیں گے اور نہ ہی عدالت میں داخل اپنی درخواستیں واپس لیں گے۔ واضح رہے کہ اقبال کاظمی کی 12 مئی کے واقعات کی عدالتی تحقیقات کی درخواست پر سندھ ہائی کورٹ نے یکم جون کو وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم، متحدہ قومی موومنٹ کے قائد سربراہ الطاف حسین اور دیگر کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا تھا۔ |