http://www.bbc.com/urdu/

Saturday, 12 May, 2007, 00:23 GMT 05:23 PST

نثار کھو کھر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

ریلی پر ریلی، دیکھیں کیا ہوتا ہے

کراچی میں حالیہ دنوں کےدوران کئی میو زک، ڈانس اور صوفیانہ میلے ہوئے ہیں لیکن بارہ مئی کو شہر میں ایک ایسا سیاسی تھیٹر ہونےجا رہا ہے جس کے لیے شہر کی کئی سڑکوں پر سٹیج لگ چکے ہیں اور عام لوگ ممکنہ تصادم سے خوفزدہ ہیں۔

سنیچر بارہ مئی کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سندھ ہائی کورٹ کی پچاس سالہ تقریبات میں شرکت کے لیے کراچی پہنچ رہے ہیں۔

کراچی میں ان کی آمد کے دن اتحادی حکمران جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے بھی عدلیہ کی آزادی کے نام سے ایک بہت بڑی ریلی کا انتظام کیا ہے۔

ایم کیو ایم نے مزار قائد کے قریب ایم اے جناح روڈ پر تبت سنٹر کے قریب ایک اوور ہیڈ برج کو اپنا سٹیج بنا لیا ہے۔

ان کا بنایا گیا سٹیج چیف جسٹس کے جلوس گزرنے کے روٹ میں پڑتا ہے۔ لیکن ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کے مطابق عدلیہ کے نام پر وہ کراچی میں کسی کو سیاست چمکانے کی اجازت نہیں دیں گے اور ریلی نکالنا ان کا بھی حق ہے۔
کراچی ائرپورٹ سے ہوتے ہوئے جب ملیر ڈسٹرکٹ بار کی طرف جائیں تو راستے میں ملیر ہالٹ اور کالا بورڈ جیسے علاقوں میں ہر چوراہا ایم کیو ایم کے جھنڈوں اور بینروں سجا ہوا ہے۔

ان علاقوں میں کسی دوسری سیاسی جماعت کے جھنڈے یا بینر نظر نہیں آئے۔
ایم کیو ایم نے پورے کراچی شہر میں جو بڑے بینر چوراہوں اور بالائی گزرگاہوں پر لگائے ہیں ان کا مواد بھی کافی دلچسپ ہے۔

’عدلیہ کی آزادی کی آڑ میں دہشتگردی۔۔۔نا منظور‘، ’عدلیہ کے نام پر سیاست چمکانے کی اجازت نہیں دیں گے‘، ’ایم کیو ایم کے لاپتہ افراد کے متعلق کوئی ازخود نوٹس کیوں نہیں لیتا‘ وغیرہ وغیرہ۔

ملیر بار کے سینئر وائس پریزیڈنٹ اشرف سموں کے مطابق وکلاء کے علاوہ علاقے کے عام لوگوں میں بھی کافی جوش دیکھا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ استقبالیہ کی تیاریوں کے دوران عام برف اور پھول بیچنے والے ان سے پیسے لینے سے یہ کہہ کر انکار کر رہے ہیں کہ وہ تو ہمارا بھی چیف جسٹس ہے۔

شاہراہ قائد پر ہر چوک اور چوراہے پر ایم کیو کے بینر اور جھنڈے نظر آ رہے ہیں۔مزار قائد پر پہنچ کر ایم کیو ایم کے علاوہ کسی سیاسی جماعت کا کوئی بینر یا جھنڈہ دکھائی نہیں دے رہا۔

مزار قائد سے ملحقہ علاقوں گرو مندر،ایم ایم جناح روڈ ،لائنز ایریا اور دوسرے علاقوں میں جشن جیسا سماں ہے۔

گرومندر سے تبت سنٹر تک ایم اے جناح روڈ کے ہر کھنبے کو لاؤڈ سپیکر اور لائٹوں سے سجا دیا گیا ہے۔

کئی ایک کا خیال ہے کہ اگر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری قائد اعظم کے مزار پر جانے کی بجائے ائرپوٹ سے شاہراہ فیصل کے راستے سیدھے ہائی کورٹ پہنچتے ہیں تو تصادم یا کشیدگی کم ہو سکتی ہے۔اگر ایسا نہیں ہوا تو بارہ مئی ملکی تاریخ میں کئی حوالوں سے یاد رکھا جائیگا۔ جس میں بقول ایک ٹیکسی ڈرائیور وکٹیں گرنے کا بہت امکان ہے۔