|
صحافیوں کو دھمکی پر احتجاجی مظاہرے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے تین سرکردہ صحافیوں کی گاڑیوں میں سے منگل کی شب گولیوں کی برآمدگی پر پاکستان کے مختلف شہروں میں صحافیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیے ہیں۔ یہ گولیاں منگل کی شام کراچی میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے سیکرٹری اور خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نمائندہ مظہر عباس، فوٹو گرافر آصف اور اے پی کے نمائندہ ضرار خان کی گاڑیوں سے برآمد ہوئی تھیں۔ کراچی میں مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے صحافیوں کو دھمکی دینے کی مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحافی حق اور سچ لکھتے رہیں گے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ان صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو صورتحال کا تجزیہ کرتے ہیں اور سولات اٹھاتے ہیں اور یہ بات کئی لوگوں کو پسند نہیں ہے۔ ضرار خان نے بتایا کہ اس دھمکی سے پہلے نامعلوم لوگ ان کا تعاقب کرتے رہے ہیں’مگر ان لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ جو بارہ مئی کو گولیوں کے درمیان پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہے تھے وہ ان گولیوں سے نہیں ڈریں گے‘۔ ضرار خان نے ان دھمکیوں کو مہاجر رابطہ کونسل کی جانب سے جاری کی جانے والی فہرست کا تسلسل قرار دیا۔ پاکستان یونین آف جرنلسٹ کے سیکرٹری جنرل مظہر عباس کا کہنا تھا کہ انیس سو بانوے میں ان کے گھر پر فائرنگ کی گئی نہ تو وہ تب ڈرے تھے اور نہ اب ڈریں گے۔
مظہر عباس کا کہنا تھا کہ’اچھا ہوتا جو گولی لفافے میں آئی تھی وہ ان کے سینے میں لگتی کیونکہ کسی کمنٹمٹ کے ساتھ اگر موت آ جائے تو وہ اعزاز ہے‘۔ مظہر عباس کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ غیر جانبدرانہ صحافت کی ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ لاہور میں پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام پریس کلب کے سامنے صحافیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ایم کیو ایم ،الطاف حسین اور صدر مشرف کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین’یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے‘،’الطاف حسین مردہ باد‘،’ایم کیو ایم مردہ باد‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس موقع پی یو جے کے صدر عارف بھٹی اور سیکرٹری عامر رضا نے خطاب کرتے ہوئے کراچی کے صحافیوں کو ملنے والی دھمکیوں کی مذمت کی اور کہا کہ اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرکے سچ کو دبایا نہیں جاسکتا۔ حیدرآباد میں بھی صحافیوں نے آج احتجاجی جلوس نکالا اور صحافیوں کو دھمکیاں دیے جانے کی مذمت کی۔ اس سے قبل بدھ کی صبح کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی نے پریس کلب پہنچ کر صحافیوں کو تحفظ کی یقین دہانی کروائی اور تحقیقات کا حکم جاری کیا۔ ادھر پاکستان پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور متحدہ قومی موومنٹ نے صحافیوں کو دھمکیاں دینے کی مذمت کی ہے۔ | اسی بارے میں صحافیوں کودھمکی: لفافوں میں گولیاں29 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||