Friday, 06 April, 2007, 11:14 GMT 16:14 PST
رفیہ ریاض
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد کی مرکزی لال مسجد کے عالم مولانا عبدالعزیز نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے لال مسجد پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو وہ بھی خودکش حملہ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
انہوں نے نمازِ جمعہ کے موقع پر تقریبًا تین ہزار افراد کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے لال مسجد میں نفاذ شریعت کے لیے شریعت کورٹ کے قیام کا بھی اعلان کیا۔
دینی مدرسے کے طلباء اور طالبات نے آبپارہ مارکیٹ میں واقع ویڈیو شاپس کے مالکان کو بھی تنبیہہ کی تھی کہ وہ ’عریانی اور فحاشی‘ پھیلانے کا سبب بننے والی سی ڈیز کی فروخت بند کردیں۔
حکومتی اہلکاروں نے ابھی تک مولانا عبدالعزیز یا ان کے طلبا اور طالبات کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی اور کہا ہے کہ طاقت کا استعمال صرف مذاکرات کی ناکامی کے بعد کیا جائے گا۔
ان کے اس بیان کے ساتھ ہی باریش نوجوانوں نے اپنے ہتھیار اوپر اٹھا لیے اور جب عبدالعزیز صاحب نے مجمع سے پوچھا کہ ’ہمارا مقصد کیا ہے‘ تو انہوں نے ’جہاد جہاد‘ کے نعروں سے ان کا ساتھ دیا۔
حکومت کے اختیار کو کھلم کھلا چیلنج کرتے ہوئے عبدالعزیز نےاس بات کا اعلان کیا کہ انصاف کی فراہمی کے لیے لال مسجد میں دس علماء پر مشتمل شریعت کورٹ قائم کر دی گئی ہے۔
انہوں نے حکومت کو وڈیو کی دکانوں اور قحبہ خانوں کو بند کرنے کے لیے بھی ایک مہینے کی مہلت دی ہے اور ان کو بے حیائی کے اڈے قرار دیتے ہوئےکہا کہ اگر حکومت ان کو بند کروانے میں ناکام ہوئی تو ان کے طلبا ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔