Thursday, 15 March, 2007, 12:54 GMT 17:54 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سابق وزیر قانون افتخار گیلانی نے ’معطل‘ چیف جسٹس سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ جسٹس افتخار کو اے کلاس قیدی کی طرح رکھا جارہا ہے اور صرف ایک اخبار مہیا کیا جاتا ہے۔
ملاقات کے بعد انہوں نے بتایا کہ چیف جسٹس کے کہنے پر وہ بھی ان کے وکلاء صفائی کی ٹیم میں شامل ہوگئے ہیں۔
افتخار گیلانی اور جسٹس افتخار محمد چودھری کی بیٹی کی ہم جماعت لڑکیوں کو جمعرات کی صبح ان سے ملاقات کی اجازت دی گئی تھی جبکہ اس سے قبل چیف جسٹس سے ملاقات کے لیے اسلام آباد کے وکلاء کے ایک گروہ کو جسٹس افتخار کے گھر کے قریب لگائے پولیس کے ناکے پر روک لیاگیا۔ ان کے علاوہ مسلم لیگ کی رہنما تہمینہ دولتانہ کو بھی واپس لوٹنا پڑا۔
چیف جسٹس ہاؤس کی صورتحال افتخار چودھری کی بیٹی کی سہیلیوں نے ملاقات کے بعد بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ جسٹس افتخار کی پوری فیملی عملا حراست میں ہے۔ جسٹس افتخار کی بیٹی کی سہیلیوں نابیرا فیاض، مناحل خان اور زونیرا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ حالات تقریبا ویسے ہی ہیں جیسے معطلی کے پہلے روز تھے۔
![]() | |
| پولیس ناکے نے ذرائع ابلاغ کے عارضی کیمپ کی شکل اختیار کر لی ہے |
انہوں نے بتایا کہ معطل چیف جسٹس کو انہوں نے دیکھا جو کافی مطمئن تھے اور مسکرا رہے تھے۔
ایک سوال کے جواب میں کہ انہیں کسی قسم کی کسی چیز کی کمی کا سامنا تو انہیں تو ان کا کہنا تھا: ’سب سے بڑی کمی تو آزادی کی ہے۔ اس سے زیادہ اور کس چیز کا احساس ہوسکتا ہے۔ یعنی ایک دم آپ کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جا رہا ہے۔ ان کے بھائی کے لیے ابھی ڈاکٹر تک نہیں آیا ہے۔‘
چیف جسٹس کی رہائش گاہ کی طرح ان کا دفتر بھی ان کے عقیدت مندوں، حکومت مخالفین اور سیاست دانوں کا دوسرا ٹھکانہ ہیں۔
تھوڑے تھوڑے وقفے سے وکلا، سیاستدان اور غیرسرکاری تنظیموں کے لوگ بینرز اٹھائے وہاں آتے ہیں اور عدلیہ کے حق میں دو چار نعرے لگاتے ہیں، صحافیوں کو انٹرویو دیتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔
ملاقاتوں اور احتجاج کا یہ سلسلہ شاید چیف جسٹس کے خلاف مقدمے کی سماعت کے ساتھ ساتھ چلتا رہے گا۔