BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 19 March, 2007, 20:14 GMT 01:14 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
حکومت نے صدر سے کیا کہا
 

 
 
ریفرنس کی اگلی سماعت بدھ کو ہو رہی ہے

صدر جنرل پرویز مشرف نے جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف جو ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا ہے اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو میڈیکل کالج میں داخلہ دلانےسے لے کر پولیس میں بھرتی کرانے تک اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔



بی بی سی نے اپنے ذرائع سے صدارتی ریفرنس کی نقل حاصل کی ہے۔ بی بی سی یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ اس میں جسٹس افتخار محمد چوہدری کا موقف شامل نہیں ہے۔ یہ تفصیلات مفاد عامہ میں بغیر کسی تبصرہ کے شائع کی جا رہی ہیں۔

اس ریفرنس میں الزام لگایا گیا ہے کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے بیٹے کو پولیس سروس میں شامل کرانے کے لیے مختلف سرکاری حکام پر دباؤ ڈالتے رہے۔

ریفرنس میں الزام لگایا گیا ہے کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے حق (entitlement) سے زیادہ گاڑیاں اپنے زیر استعمال رکھیں اور ایک سے زیادہ مواقع پر انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں وہ گاڑی دی جائے جو وزیر اعلی یا گورنر کے زیر استعمال ہے۔

اس صدراتی ریفرنس میں سب سے کم توجہ مالی معاملات پر دی گئی۔ ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دو مقدموں پر بڑا چرچا رہا جس میں انہوں نے کھلی عدالت میں سنائے جانے والے زبانی فیصلے کے بلکل برعکس فیصلہ تحریر کیا۔

سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجے جانے والےصدارتی ریفرنس میں چیف جسٹس کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان کی مختلف محکموں میں تعیناتی اور پھر ان کی پولیس سروس میں شمولیت کے لیے چیف جسٹس کی مبینہ کوششوں کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔

صدارتی ریفرنس کی تفصیلات:
1) چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے بیٹے ارسلان افتخار کوناجائز فائدہ پہچانے کے لیے کئی لوگوں کو غیر قانونی کام پر مجبور کیا۔

جسٹس افتخار کی معطلی کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے ہوئےہیں

2) ڈاکٹر ارسلان نے 1996 میں بولان میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ داخلہ کے لیے میرٹ سے 111 نمبر کم ہونے کے باوجود اس وقت کے وزیر اعلی بلوچستان سے داخلہ کے لیے رابطہ کیا گیا۔

3) 22 جون 2005 کو ڈاکٹر ارسلان کوانسٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کوئٹہ میں میڈیکل آفیسر میں تعینات کیا گیا۔

4) 18 جولائی 2005 کو چیف منسٹر بلوچستان نے حکم جاری کیا کہ ڈاکٹر ارسلان کو مفاد عامہ میں محکمہ صحت میں بطور سیکشن آفیسر (ٹیکنیکل) تعینات کیا جائے۔

5) 18 جولائی چیف سیکریٹری بلوچستان نے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے احکامات محکمۂ صحت کو ارسال کر دیئے۔

6) محکمہ صحت نے 10 اگست 2005 کو ڈاکٹر ارسلان افتخار کا معاملہ محکمہ ایس اینڈ جی ڈی کو ارساں کردیا۔

7) محکمہ ایس اینڈ جی ڈی نے چیف منسٹر کو سمری بھیجی کہ ٹیکنیکل کوٹہ میں سیکشن آفیسر کی کوئی آسامی خالی نہیں ہے۔ محکمہ ایس اینڈ جی ڈی نے تجویز دی کہ جب تک سیکشن آفیسر کو پبلک سروس کمشن کے ذریعے ہونے والے امتحان ہونے والے امیدواروں کے تعینات ہونے تک ڈاکٹر ارسلان کو عارضی طور پر تعینات کر دیا جائے۔

8) 15 اگست کو ڈاکٹر ارسلان کو عارضی آسامی پر سیکشن افسر تعینات کر دیا گیا۔

9) ڈاکٹر ارسلان کی بطور سیکشن آفیسر تعیناتی سے نو دن پہلے(چھ اگست 2005) وفاقی وزارت داخلہ بلوچستان کے محکمہ صحت کوخط لکھا گیا کہ مفاد عامہ میں محکمہ صحت کے گریڈ سترہ کے آفیسر ڈاکٹر ارسلان کی خدمات ایف آئی اے کو درکار ہیں۔

مظاہروں کے دوران صدر مشرف کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی

10) ڈاکٹر ارسلان کی محکمہ صحت میں بطور سیکشن آفسیر کی تعیناتی کے نوٹیفکیش سے دو روز پہلے بلوچستان کے محکمہ ایس اینڈ جی ڈی نے ڈاکٹر ارسلان کی خدمات ایف آئی اے میں تعیناتی کے لیے وفاقی وزارت داخلہ کے حوالے کر دیں۔

11) وزارت داخلہ نے 5 ستمبر 2005 میں ڈاکٹر ارسلان کو گریڈ سترہ میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے تعیناتی کے احکامات جاری کر دیئے۔
12) ڈاکٹر ارسلان کو انٹسٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں بطور میڈیکل آفیسر کی تعیناتی کے چار مہینوں کے اندر بطور سیکشن آفیسر تعینات کر دیا گیا۔ بطور میڈیکل آفیسر ان کی چھ مہینے کی پروبیشن بھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔

13) ڈاکٹر ارسلان کو جو مقابلے کے امتحان میں تین دفعہ ناکام رہے، دو سال تک ایف آئی اے میں تعینات رکھا گیا۔

13) محکمۂ صحت میں عارضی آسامی پر تعیناتی کے بعد ڈاکٹر ارسلان کو 22 نومبر 2005 میں بلوچستان حکومت نے ڈاکٹر ارسلان افتخار کی عارضی آسامی کو مسقل میں بدل دیا۔

14) ایف آئی اے میں بطور اسٹنٹ ڈائریکٹر کی تعیناتی کے پانچ ماہ بعد وزارت داخلہ نے ڈاکٹر ارسلان کو گریڈ اٹھارہ میں ترقی دے دی۔

15) یہ سب کچھ ڈاکٹر ارسلان کو محکمہ پولیس میں بھرتی کے لیے کیا گیا۔ محکمہ پولیس میں بھرتی کے مقابلے کے امتحان کو پاس کرنا ضروری ہے جبکہ گریڈ اٹھارہ حاصل کر کے فیڈرل پبلک سروس کمیشن سے بچنے کی کوشش کی گئی۔

مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپیں ہوئیں

16) 19 مئی 2006 کو وزارت داخلہ نےنیشنل پولیس اکیڈمی کو خط لکھا کہ ایف آئی اے کے اسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر ارسلان کو اسٹنسٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس کی تربیت دے جائے۔

17) 24مئی 2006 وزارت داخلہ نے ایک اور حکم جاری کیا کہ ڈاکٹر ارسلان کو پولیس اکیڈمی میں سپیشل تربیت کے بعد لاہور میں تعیناتی کے لیے پنجاب پولیس کے حوالے کر دیا جائے۔

18) 27 جون 2006 کو نیشنل پولیس اکیڈمی نے ڈاکٹر ارسلان کی خدمات حکومت پنجاب کے حوالے کردیں۔

19) اسی دوران وزیر اعظم سکریٹریٹ سے رابطہ کیاگیا کہ ڈاکٹر ارسلان کو مستقل طور پر محکمۂ پولیس میں گریڈ اٹھارہ میں بھرتی کر لیا جائے۔

20) وزیر اعظم سیکریٹریٹ نے ڈاکٹر ارسلان کی محکمۂ پولیس میں بھرتی کے لیے متعلقہ محکموں سے رائے لی۔

21) اسٹیبلمشنٹ ڈویژن نے کہا کہ متعلقہ رولز میں ترمیم کے بغیر ڈاکٹر ارسلان کی گریڈ اٹھارہ میں تعیناتی ممکن نہیں ہے۔

22) 31 مئی 2006 کو سیکرٹری اسٹیبلمشنٹ کو چیف جسٹس کی رہائش گاہ پر بلایا گیا اور رات گیارہ بجے ہونے والی ملاقات میں جسٹس افتخار نے ڈاکٹر ارسلان کی پولیس میں گریڈ اٹھارہ میں مستقل تعیناتی کا مطالبہ کیا۔

23) جسٹس افتخار محمد چوہدری نے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری سے گرین فون پر رابطہ کر کے ڈاکٹر ارسلان کے معاملے ہونے والی پیش رفت کی تفصیلات چاہیں۔

24) جب پرنسپل سیکرٹری نے جسٹس افتخار کوبتایا کہ معاملہ تحریری پر وزیر اعظم کے نوٹس میں لایا جائے گا اور اس پر کچھ وقت لگے توانہوں نے کہا کہ اس سے معاملہ خراب ہو سکتا ہے اور یہ ایک پیکج کا حصہ ہے۔

25) جسٹس افتخار کے دباؤ کی وجہ سے ڈاکٹر ارسلان کی پولیس سروس میں گریڈ اٹھارہ میں بھرتی کے لیے سمری بنائی گئی۔

26) جسٹس افتخار نے استنبول میں ہونے والے عالمی دہشت گردی سے نمٹے کے کورس میں ڈاکٹر ارسلان کی شمولیت کے لیے دباؤ ڈالا۔

گاڑیاں

27) چیف جسٹس جو 1600 سی سی کی ایک کار کے حقدار تھے جبکہ انہوں نے مرسیڈیز بینز (3000 سی سی) سمیت سات کاریں اپنے استعمال میں رکھیں۔

28) اس کے علاوہ انہوں نے کاروں کی بڑی تعداد سپریم کورٹ لاہور اور کراچی کے دفاتر میں اپنے استعمال میں رکھیں۔

29) جسٹس افتخار نے ایک سے زیادہ مرتبہ وزیرِ اعلیٰ یا گورنر کے زیر استعمال کاروں کو استعمال کرنے پر اصرار کیا۔

پروٹوکول

30) جسٹس افتخار نے چیف جسٹس کے لیے مخصوص پروٹوکول سے زیادہ پروٹوکول کی فرمائش کی اور مطالبہ کیا کہ ان کی حفاظت کے لیے کمانڈوز کو تعینات کیا جائے۔

31) جسٹس افتخار مطالبہ کرتے تھے کہ سینئر افسران ان کو ائیرپورٹ لینے کے لیے موجود ہوں۔

32) مختلف تقریبات یا فاتحہ خوانی میں شرکت کے لیے جسٹس افتخار طیارے اور ہیلی کاپٹر کا مطالبہ کرتے رہے جبکہ وہ اس کے حقدار نہیں تھے۔

33) کچھ عرصہ کے لیے رضیہ ون کی نمبر پیلٹ والی بی ایم ڈبلیو کار جسٹس افتخار اور ان کے اہل خانہ کے زیر استعمال رہی۔ جب یہ بات اخباروں میں چھپی تو انہوں نے خاموشی سے کار کو کہیں بھیج دیا۔

عدالتی برتاؤ
34) جسٹس افتخار محمد کے خلاف عدالت میں سنائے جانے والے فیصلوں کے متصادم تحریری فیصلوں کی بھی شکایت ہیں۔ دو ایسے مقدموں کا بہت چرچا ہو ا ہے ۔ان دو مقدموں کی مالیت 55 ملین روپے بتائی جاتی ہے۔

35) جسٹس افتخار محمد ان مراعات کا مطالبہ کرتے رہے جس کے وہ حقدار نہیں تھے۔

ان شواہد کی روشنی میں وزیر اعظم نے صدر کو مشورہ دیا کہ وہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سپرد کریں جو اس بات کا جائزہ لے کہ کیا کہیں جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال تو نہیں کیا۔ سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیجنے کے ساتھ جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بطور چیف جسٹس کام کرنے سے روک دیا جائے۔

دستخط
سیکرٹری قانون و انصاف جسٹس ریٹائرڈ منصور احمد

 
 
سینئر سول جج راجیش چندر راجپوتنو نے نہ کر دی
مستعفی ہونے والے کیا کہتے ہیں؟
 
 
چھٹے دن بھی احتجاج جسٹس کی معطلی
سنیچر کو لاہور میں وکلاء کا مظاہرہ
 
 
معطلی اور مظاہرے
عدالتی بحران پر عام شہری کیا کہتے ہیں؟
 
 
’ایک گرم دن‘
ناکے، پتھراؤ، آنسوگیس اور منجھا پولیس اہلکار
 
 
چھٹے دن بھی احتجاج چھٹے دن بھی احتجاج
چیف جسٹس معطلی کے خلاف مظاہرے جاری
 
 
چیف جسٹس افتخار چودھریعدالت میں کیا ہوا؟
’ملزم جیسی پیشی ہیرو جیسا استقبال‘
 
 
’شبہے کا وقت‘
کابینہ وہ گھوڑا جسے جب چاہیں، ہانک دیں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد