Tuesday, 12 December, 2006, 14:57 GMT 19:57 PST
عزیز اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان نیشنل موومنٹ کے سربراہ غلام محمد بلوچ کی مبینہ طور پرغیر قانونی حراست کے خلاف آج مکران ڈویژن میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔
پسنی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق آج تمام کاروباری مراکز اور دکانیں بند رہی ہیں جبکہ تمپ میں خواتین اور بچوں نے احتجاجی ریلی نکالی جس سے بلوچستان نیشنل موومنٹ کے قائدین نے خطاب کیا ہے۔
اس ریلی میں موجود مظاہرین نے بی این ایم کے سربراہ غلام محمد بلوچ سمیت دیگر غیر قانونی طور پر گرفتار افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
تربت سے مقامی صحافیوں نے بتایا ہے کہ بلوچستان نیشنل موومنٹ کے قائدین نے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل کی تھی لیکن شہر میں بیشتر دکانیں کھلی رہیں۔ پولیس بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مقامی لیڈر کو گرفتار کر لیا ہے۔
بلوچستان نیشنل موومنٹ کے قائدین کے مطابق غلام محمد بلوچ کو کچھ روز پہلے کراچی سے اٹھایا گیا ہے جن کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔
گزشتہ روز کوئٹہ میں مصری خان مری کی مبینہ غیر قانونی حراست کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا گیا تھا۔
مصری خان مری ماہر تعلیم ہیں اور حراست سے پہلے قلات میں کالج کے پرنسپل کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔مصری خان مری کے بھائی ضلع مصری خان مری کے بھائی ضلع کوہلو کے ناظم ہیں۔