Thursday, 30 November, 2006, 18:43 GMT 23:43 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
بلوچستان نیشنل پارٹی کے اعلان کردہ لانگ مارچ کے لیے گوادر کی جلسہ گاہ پہنچنے والے مظاہرین پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا تیس کے لگ بھگ قائدین اور کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ جس کے بعد بازار اور کاروباری مراکز بند کر دیے گئے۔
گوادر میں جمعرات کی صبح سے ہی کشیدگی پائی جا رہی تھی اور انتظامیہ نے ملا فاضل چوک پر، جہاں بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائدین نے جلسے سے خطاب کرنا تھا، بڑی تعداد میں پولیس تعینات کر دی تھی۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری حبیب جالب ایڈووکیٹ جو گوادر پہنچنے میں تو کامیاب ہو گئے تھے لیکن انہیں جلسے سے خطاب نہیں کر نے دیا گیا۔
یاد رہے بدھ کو اس مقام پر حکومت کی حلیف جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی نے جلسہ کیا تھا جس کی تشہیر کے لیے سرکاری عہدیدار بھی کافی متحرک تھے۔
اس سلسلے میں جب بلوچستان حکومت کے ترجمان رازق بگٹی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس موضوع پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ان کے تین سو کے لگ بھگ قائدین اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
جمعرات کی صبح سے مکران ڈویژن کے علاوہ دیگر علاقوں سے مظاہرین نے گوادر پہنچنے کی کوششں کی، لیکن ان مظاہرین میں سے اکثر کو راستوں پر قائم چوکیوں پر گرفتار کر لیا گیا ۔
گوادر سے مقامی صحافی بہرام بلوچ اور پسنی سے امام بخش بہار نے بتایا ہے کہ گرفتار ہونے والے قائدین میں سابق رکن صوبائی اسمبلی اکبر بلوچ، جمہوری وطن پارٹی کے حسین اشرف سمیت دیگر قائدین اور کارکن بھی شامل ہیں۔
ان گرفتاریوں کے خلاف جمعرات کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی جبکہ کوئٹہ میں بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے کارکنوں نے سریاب روڈ کو احتجاجًا بلاک کر دیا تھا۔