BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 29 October, 2006, 10:00 GMT 15:00 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
صوبۂ کشمیر: نادرا نے غلطی تسلیم کی
 

 
 
افغان پناہ گزین
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تقریباً نو سو افغان مقیم ہیں
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں خود مختار کشمیر کی حامی تنظیموں نے پاکستان کی نیشنل ڈیٹابیس اتھارٹی کی طرف سے افغان پناہ گزینوں کو جاری کیئے جانے والے عارضی شناختی دستاویز میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو صوبہ ظاہر کیئے جانے مذمت کی ہے۔ پاکستان کے نیشنل ڈیٹابیس اتھارٹی نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کو دور کر رہے ہیں۔

پاکستان کے نیشنل ڈیٹابیس اتھارٹی یا نادرا نے اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کے تعاون سے اس ماہ کے وسط سے پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں مقیم افغان پناہ گزینوں کا اندراج شروع کیا جو اس سال کے آخر تک جاری رہے گا۔

سن دو ہزار پانچ میں پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی مردم شماری کے بعد اب ان کے اندراج کا کام شروع کیا گیا ہے۔

پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کے اندارج کے عمل کے آغاز کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کے ادارے برائے پنا گزین نے رضاکارانہ طور پر وطن واپس جانے والے پنا گزینوں کی امداد کا سلسلہ معطل کردیا ہے تاکہ یہ افراد بھی اندراج کے عمل میں شریک ہوں سکیں۔

گزشتہ سال کی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں ساڑھے تیس لاکھ افغان موجود تھے۔ یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے ایک اندازے کے مطابق تقریباً چوبیس لاکھ افغان اب بھی پاکستان میں مقیم ہیں جن میں نادرا کا کہنا ہے کہ تقریباً نو سو افغان پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہیں۔

اس انداراج کی مہم کا مقصد افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے سلسلے میں جامع پالیسی ترتیب دینے کے لیے اعداد شمار اکھٹے کرنا بتایا گیا ہے۔

اس مہم کے دوران اندراج شدہ افغان پناہ گزینوں کو پاکستان کے نیشنل ڈیٹابیس کی جانب سے ایک شناختی دستاویز فراہم کی جارہی ہے جو رجسڑیشن یعنی رجسڑیشن کا ثبوت کہلاتی ہے۔ اس شناختی دستاویز کی معیاد تین سال ہے ۔

حکام کے مطابق کشمیر کے اس علاقے میں لگ بھگ تین سو افغان پناہ گزینوں کو شناختی دستاویزات جاری کیئے جاچکے ہیں جن پر کشمیر کے اس متنازعہ علاقے کو صوبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ جے کے ایل ایف کے اپنے دھڑے کے سربراہ امان اللہ خان نے کہا تھا کہ یہ اقدام مضحکہ خیز اور احمقانہ اور قابل مذمت ہے اور یہ مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس کو درست کیا جائے۔

کشمیر کے اس خطے کا الگ آئین ہونے کے ساتھ ساتھ اپنا وزیر اعظم اور سپریم کورٹ ہے اور پاکستان کا یہ دیرینہ اور روایتی موقف رہا ہے کہ کشمیر کا علاقہ متنازعہ ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرسکیں۔

پاکستان کے نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسڑیشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کو جاری کیئے جانے والے شناختی دستاویز میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے لیئے غلطی سے صوبے کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور یہ کہ اس کو درست کیا جارہا ہے۔

اس ادارے کے ڈائریکڑ جنرل کرنل زاہد اقبال کا کہنا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کے لیے شناختی دستاویزات کا سافٹ ویئر ابتدائی طور پر پاکستان کے صوبوں کے لیے بنایا گیا تھا جہاں افغان بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بعد میں یہ احساس ہوا کہ کشمیر کے علاقے میں بھی کچھ افغان آباد ہیں اور ان کو بھی یہی شناختی دستاویزات فراہم جاری کئے گئے جو پاکستان کے صوبوں کے لیے بنائے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کے لیے شناختی دستاویز میں سٹیٹ یا ریاست کا لفظ داخل کیا جارہا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کشمیر میں جن افغان پناہ گزینوں کو شناختی دستاویزات جاری ہوئے ہیں ان سے واپس لیے جائیں گے یا نہیں۔

 
 
اسی بارے میں
اندراج سست روی کا شکار
19 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد