|
سندھی ’بے روزگار‘ کی خود سوزی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک پچیس سالہ سندھی شخص نے سوموار کی صبح سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے مبینہ طور پر بے روزگاری سے تنگ آکر خود کو آگ لگا کر شدید زخمی کرلیا۔ نیاز نامی شخص نے سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے صبح گیارہ بجے کے قریب خود پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا لی جس سے اس کے بازو اور سینہ بری طرح جھلس گیا۔ موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے اس کی آگ بجھا کر اسے پولی کلینک ہسپتال پہنچایا جہاں وہ زیر علاج ہے۔ پولی کلینک ہسپتال کے برن یونٹ میں موجود سٹاف کا کہنا ہے کہ نیاز بری طرح جھلسا ہوا ہے لیکن اس کی حالت خطرہ سے باہر ہے۔ اس کا علاج کرنے والے ڈاکٹر فیصل نے بتایا کہ اس کے جسم کا ساٹھ فیصد سے زیادہ حصہ جھلس گیا ہے جس میں سینہ، دونوں بازو، کمر، اور کولہے وغیرہ شامل ہیں۔ سانگھڑ سے تعلق رکھنے والا یہ شحض ان دنوں اسلام آباد میں ایچ نائن سیکٹر میں رہائش پذیر تھا۔ ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ نیاز نے پولیس کے سامنے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ وہ تین بچوں کا باپ ہے لیکن بے روزگار ہے۔ سیکریٹریٹ پولیس نے خود سوزی کی کوشش کرنے والے شخص کا بیان ریکارڈ کر لیا ہے۔ تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ نیاز کو اس بات پر غصہ تھا کہ اس کے ساتھ رہنے والے تین اور سندھی لوگ اسے چور کہتے تھے اور اسے تنگ کرتے تھے۔ ان کی وجہ سے اسے ملازمت نہیں ملتی تھی۔ نیاز کا کہنا تھا کہ کچھ دنوں پہلے اس سے موبائل فون اور پیسے چھین لیے گئے تھے جس کا اس نے مقدمہ درج کروایا تھا لیکن پولیس نے اس کی شنوائی نہیں کی۔ | اسی بارے میں پانچ مزدوروں کی ناکام خودسوزی 14 August, 2005 | پاکستان مزدور اور تلخئی اوقات11 June, 2005 | پاکستان کوئٹہ میں بے روزگاروں کا مظاہرہ13 September, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||