http://www.bbc.com/urdu/

Thursday, 21 September, 2006, 10:13 GMT 15:13 PST

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی سے بلوچ صحافی لاپتہ

کراچی سے ایک بلوچ صحافی کے لاپتہ ہو نے کے بعد صحافیوں نے یہ شبہ ظاہر کیا ہے کہ سعید سربازی پاکستان کے خفیہ اداروں کی تحویل میں ہیں۔

سعید سربازی بدھ کی دوپہر کو اپنے گھر سے پریس کلب آنے کے لیئے نکلے تھے کہ لاپتہ ہوگئے۔

سعید سربازی ایک انگریزی اخبار کے نیوز ایڈیٹر اور کراچی پریس کلب کے جوائنٹ سیکریٹری ہیں۔

سعید سربازی کی گمشدگی کے خلاف صحافیوں نے جمعرات کے روز سندھ اسمبلی کا بائیکاٹ اور دھرنا دیا۔

 دھرنے سے پاکستان یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری جنرل مظہر عباس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تشویش ہے کہ کہیں سعید سربازی کو حیات اللہ نہ بنایا جائے
 

دھرنے سے پاکستان یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری جنرل مظہر عباس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں تشویش ہے کہ کہیں سعید سربازی کو حیات اللہ نہ بنایا جائے۔‘

انہوں نے بتایا کہ حیات اللہ کی گمشدگی کے بعد بھی صرف شور شرابہ ہوتا رہا۔ ’میں نے وزیر اعلیُ ہاؤس میں اکرم درانی کو کہا تھا کہ ان کا مجرمانہ کردار رہا ہے،اگر وہ چاہتے تو حیات اللہ بازیاب ہوسکتا تھا۔‘

مظہر عباس نے بتایا کہ سعید نے ایک ہفتہ قبل خدشہ ظاہر کیا تھا کہ کوئی ان کا پیچھا کر رہا ہے، اس لیئے ہوسکتا ہے کے کسی دن یہ خبر ملے کہ ’میں نہیں مل رہا مہربانی کر کے میری بیوی بچوں کا خیال رکھیے گا۔‘

پی ایف یو جے کے رہنما نے کہا کہ ’جس طرح سے ہمارے دوستوں کی لاشیں مل رہی ہیں ہمیں خدشہ ہے کہ کہیں کسی اور دوست کی لاش نہ ملے۔‘

انہوں نے اعلان کیا کہ اس وقت تک اسمبلی کا بائیکاٹ، گورنر ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج جاری رکھیں گے جب تک سعید سربازی کے بارے میں بتایا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر سعید نے کوئی جرم کیا ہے تو اس پر مقدمات چلایا جائے۔‘

دوسری جانب سندھ کے صوبائی وزیر داخلہ رؤف صدیقی اور مشیر اطلاعات صلاح الدین حیدر نے صحافیوں کے پاس پہنچ کر ان سے بات کی۔ رؤف صدیقی نے کہا کہ سعید سربازی پولیس کی حراست میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کراچی پولیس چیف کو ہدایت کی ہے کہ وہ انہیں اس بارے میں تفیصلات سے آگاہ کریں۔

صحافیوں نے اعلان کیا کہ جب تک سعید سربازی کے بارے میں حکومت آگاہ نہیں کرتی تو ان کا احتجاج جاری رہے گا۔