http://www.bbc.com/urdu/

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی

صوبائی خود مختاری کا مطالبہ

کراچی میں ہونے والے ایک مذاکرے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل صوبائی خودمختاری میں ہے اس لیئے آئین میں ترامیم کی جائیں ۔

کراچی میں جمعرات کی شام ’بلوچستان کا حال اور مستقبل‘ کے عنوان سے ہونے والے سیمینار میں بلوچستان کے سابق گورنر جرنل( ر) عبدالقادر بلوچ، جماعت اسلامی کے پروفیسر خورشید احمد، سردار شیرباز مزاری، شعیب نوشیروانی اور دیگر شرکاء نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

بلوچستان کے سابق گورنر جرنل( ر) عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بلوچ جوان قابو میں نہیں ہیں ہر ایک بگٹی بنا ہوا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ جب ایک اسی سالہ بوڑھا شہید ہوسکتا ہے تو ہم نوجوان کیوں نہیں۔ اور اس بنیاد پر وہ بنیادی پارلیمانی سیاست کو خیرآباد کہہ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان مسائل کا حل یہ ہے کہ آئین میں بنیادی ترامیم کی جائیں اور ان ترامیم کا آغاز صوبوں کو خودمختاری دینے سے کیا جائے۔

پنجاب مخالف جذبات کے بارے میں انہوں نے تاریخی حوالا دیتے ہوئے کہا کہ یہ نفرت انگریزوں کے زمانے سے ہے جب انہوں نے 1893 میں خان خداد کو بلوچستان کا خان بنا کر سرکاری زبان کو فارسی کے بجائے اردو کردیا تھا اور جس وجہ سے راتوں و رات بلوچ جاہل بن گئے تھے۔

پنجاب اور باقی صوبوں سے آنے والے لوگوں نے بلوچوں کو کمتر سمجھنا شروع کردیا اور یوں نفرتیں بڑھتی گئیں اور قوم پرست سیاست کرنے والوں کو اپنی سیاست چمکانے کا موقع ملتا رہا۔

انہوں نے کہا کہ اگر قوم پرست برابری کی بات کرتے ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے اور اگر کوئی اسے گناہ سمجھتا ہے تو وہ یہ گناہ کرتے رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے اثاثوں پر ہمارہ کنٹرول ہونا چاہیئے پھر وفاق کو جو حصہ چاہیئے وہ ہم اسے دینے کے لیئے تیار ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ صدر مشرف اور وزیر اغطم کی جانب سے بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان میں ترقی کے لیئے ایک سو تیس ارب رپے خرچ کیئے جارہے ہیں مگر حقیقت تو یہ ہے اس میں سے ایک سو ارب روپے گودار پورٹ کے لیئے ہیں جو پاکستان کی ضرورت ہے اور اس کا بلوچوں کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔

جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر خورشید احمد کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے حالات بہت خراب ہیں جن کی وجہ سے لوگ بہت مایوس ہو چکے ہیں وہاں آج تک جو بھی فوجی آپریشن ہوئے ہیں ان سے نہ صرف صوبے کا بلکہ پاکستان کا بھی نقصان ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ’ آئینی طور پر صوبوں کو خودمختاری ملنی چاہیئے۔ وسائل پر ملک کا حق ہے مگر بنیادی حق اس کا ہے جہاں سے پیدا ہوتے ہیں۔جو لوگ پاکستان کی فوج سے محبت کرتے تھے وہی لوگ اب اس سے نفرت کرتے ہیں جس کی وجہ فوج کی سیاست میں مداخلت ہے ہم چاہتے ہیں کہ سیاست میں فوج کی اس مداخلت کو بند کیا جائے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں مشرف کو صدر نہیں مانتا۔ وہ عوام میں سے منتخب ہو کر نہیں آئے ہیں اور انہوں نے اقتدار پر قبضہ کیا ہے‘۔

بلوچستان کے صوبائی وزیر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ وہ صوبائی خودمختاری کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں صوبوں کو اختیارات ملنے چاہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر مشرف سے صوبائی حکومت کی ملاقات میں صوبے کی رائلٹی اور مقامی لوگوں کی ملازمتوں کے بارے میں کھل کر موقف بیان کیا گیا تھا۔ جس سے صدر مشرف نے بھی اتفاق کیا تھا اور گوادر میں مقامی لوگوں کا ملازمت میں کوٹہ پچیس فیصد کردیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ بگٹی کے خلاف آپریش کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ صوبائی حکومت نے وفاق کو کہا تھا کہ ان کے پاس وسائل نہیں ہیں اس لیئے قومی تنصیبات کی حفاظت میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے ٹریک اور بجلی کے پول کو اڑانا قوم پرستی نہیں بلکہ تخریب کاری ہے۔