http://www.bbc.com/urdu/

Friday, 08 September, 2006, 14:02 GMT 19:02 PST

اعجاز مہر

حکومت بگٹی ڈی این اے کے لیئے تیار

پاکستان کے وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے کہا ہے کہ حکومت نواب اکبر بگٹی کی لاش کا ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کے لیے قانون کے مطابق ان کے اہل خانہ سے مکمل تعاون فراہم کرنے کیے لیے تیار ہے۔

یہ بات انہوں نے جمعہ کے روز قومی رضا کار تحریک کے کارکنوں کو اسناد دینے کی ایک تقریب کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

جب صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ نواب بگٹی کے بیٹوں جمیل اکبر اور طلال بگٹی نے اپنے والد کی لاش کا عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کے مطالبے پر حکومت کا رد عمل کیا ہے؟

تو وزیر اطلاعات نے کہا کہ ’ اس بارے میں حکومت ان سے قانون کے تحت ہر ممکنہ تعاون کے لیے تیار ہے،۔

واضح رہے کہ بلوچستان کے قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی حکومت کے مطابق چھبیس اگست کی شام گئے ضلع کوہلو کی ایک غار میں دھماکے سے غار دبنے کے بعد ہلاک ہوگئے تھے۔

حکومت نے یکم ستمبر کو ان کے اہل خانہ کی غیر موجودگی میں انہیں اپنے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کردیا تھا۔

نواب بگٹی کے بیٹوں نے شک ظاہر کیا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ فوج نے ان کے والد کو قتل کرنے کے لیے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں اور ان کے بقول یہی وجہ ہے کہ حکومت نے لاش نکالنے میں تاخیر کی اور ورثاء کے حوالے کیے بنا دفن کردیا۔

حکومت نے ان کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ لاش خستہ حالت میں تھی اور اسے جلد دفنانا ضروری تھا۔ ان کے مطابق لاش ورثاء کے حوالے اس لیے نہیں کی گئی کہ وہ اس پر سیاست کرنا چاہتے تھے۔

نواب بگٹی کے ہمراہ ان کے دیگر ساتھی بھی تھے لیکن تاحال ان کی لاشوں کے متعلق حکومت نے کوئی وضاحت نہیں کی۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ اکبر بگٹی کی ہلاکت پر بھارتی قیادت کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہے۔ تاہم انہوں نے براہ راست بھارت کو اس میں ملوث قرار دینے سے گریز کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک سے باہر بیٹھے ہوئے پاکستان کے سیاسی رہنما بھارتی رہنماؤں سے ملنے کے بعد بلوچستان کی صورتحال کے بارے میں بیانات دے رہے ہیں جوکہ ان کی سیاسی ناپختگی ہے۔

واضح رہے کہ دو سابق وزرائے اعظم بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے علاوہ حکومتی اتحاد میں شامل متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے بھی نواب بگٹی کے قتل کی سخت مذمت کی تھی۔