Tuesday, 05 September, 2006, 15:27 GMT 20:27 PST
ندیم سعید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ملتان
نواب اکبر خان بگٹی اپنے قبیلے کے وہ پہلے فرد نہیں تھے جسے حکومتِ وقت کے ہاتھوں المناک موت سے دوچار ہونا پڑا، تقریباً ڈیڑھ صدی قبل غلام حسین بگٹی بھی اسی طرح برطانوی فوج سے مقابلہ کرتے ہوئے ہلاک ہوئے تھے۔
غلام حسین اور نواب بگٹی کے آخری ایام میں انتہائی مماثلت ہے۔ اپنے قبیلے کے ساتھ چھوڑ جانے پر غلام حسین نے مری قبیلے میں پناہ لی تھی اور وہیں سے مرتے دم تک مزاحمت جاری رکھی اور حکومتی ترجمانوں کی طرف سے ’کمانڈرز‘ کہے جانے والے نواب بگٹی کے انتہائی قریبی لوگ بھی ان کا ساتھ چھوڑ گئے تھے، جس پر نواب کو بھی مری علاقے میں روپوشی اختیار کرنی پڑی۔
غلام حسین بگٹی، قبیلے کی مسوری شاخ کے وڈیرے تھے لیکن اس وقت کے برطانوی افسروں کی طرف سے لکھی گئی یاداشتوں میں ان کا ذکر ایک ’قانون شکن‘ فرد کے طور پر آتا ہے جس نے حکومت کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ان پر لگائے گئے الزامات بھی کم و بیش وہی تھے جو پاکستان کی فوجی حکومت نے نواب بگٹی کے خلاف لگا رکھے تھے، مثلاً یہ کہ انہوں نے اپنی ملیشیا بنا رکھی ہے، جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کرتے ہیں اور اردگرد کے قبائل ان سے تنگ ہیں۔
![]() | |
| یہ غار بگٹی کی آخری پناہ گاہ ثابت ہوا |
ڈیرہ غازی خان کے ڈپٹی کمشنر کیپٹن (بعد میں سر) رابرٹ سنڈیمن تھے جن کی وضع کردہ حمکت عملی کی بدولت، جسے ’فارورڈ پالیسی‘ کا نام دیا جاتا ہے، بلوچستان کے قبائل کو مطیع کیا گیا تھا۔ فارورڈ پالیسی کا مقصد لاقانونیت کے لیئے مشہور بلوچ اور پشتون قبائل کو کسی ضابطے میں لانا تھا تاکہ ایشیاء کی وسطی ریاستوں تک جانے والے راستے کو تجارت کے لیئے محفوظ بنایا جا سکے۔
اٹھارہ سو سڑسٹھ میں سنڈیمن کے ماتحت کام کرنے والے ایک انگریز اسسٹنٹ کمشنر رچرڈ آئزک بروس اپنی کتاب ’فارورڈ پالیسی اینڈ اٹِس ریزلٹس‘ میں لکھتے ہیں: ’وسط ایشیائی ریاستوں تک بھرپور تجارتی رسائی کے لیئے بولان اور کچھی سے گزرنے والے راستوں کو سفر کے لیئے محفوظ بنانا بہت ضروری ہے‘۔
غلام حسین کا سر |
غلام حسین نے بگٹی، مری اور کھیتران قبائل کے افراد پر مشتمل بارہ سو سواروں کا ایک لشکر تیار کیا اور ستائیس جنوری سنہ اٹھارہ سو اڑسٹھ کے روز ہڑند میں واقع برطانوی فوجی چھاؤنی پر حملہ آور ہوا لیکن سردار مرتضیٰ بگٹی نے حکومت کو اس حملے کے بارے پیشگی اطلاع کر رکھی تھی۔
![]() | |
| غلام حسین اور نواب بگٹی کے آخری ایام میں انتہائی مماثلت ہے |
لیکن سنڈیمن نے اس عمل پر انتہائی ناگواری کا اظہار کیا اور حکم دیا کہ غلام حسین کے سر کو فوری طور پر دفنا دیا جائے۔ غلام حسین کے خاندان والے بعد میں ان کا سر لے گئے اور اسے ان کے باقی جسم کے ساتھ دفن کیا گیا۔