|
مس بکنی، نہیں نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر ثقافت سید غازی گلاب جمال نے کہا ہے کہ چین میں Miss Bikini کے مقابلے میں کسی پاکستانی نے شرکت نہیں کی اور نہ ہی پاکستان سے کسی کو اس مقابلے میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اٹھائیس اگست کو چین میں ہونے والے اس روایتی تقریب میں امریکہ کے شہر ہیوسٹن کی رہائشی اور پاکستانی نژاد امریکی شہریت رکھنے والی بائیس سالہ ماریہ متین بطور پاکستانی نہیں بلکہ انفرادی طور پر شریک ہوئیں تھیں۔ وزیر نے کہا کہ اس طرح کے مقابلوں میں شرکت کی نہ اسلام اجازت دیتا ہے اور نہ پاکستان کی ثقافت۔ ماریہ متین جو کراچی میں پیدا ہوئیں اور اطلاعات کے مطابق آٹھ برس قبل امریکہ گئیں انہوں نے وہاں کی شہریت حاصل کرلی ہے۔ وہ ’مس بکنی‘ کا مقابلہ تو نہیں جیت سکیں تھیں البتہ پاکستان کی نمائندہ کہلوانے کی وجہ سے اس مقابلے میں شریک لڑکیوں میں سب سے زیادہ میڈیا کی توجہ کا مرکز رہیں۔ ان کے سب سے زیادہ انٹرویوز ہونے اور تصویریں بنائی جانے پر ’مس بکنی‘ کے منتظمین نے انہیں ’مس میڈیا‘ کا اعزاز دیا تھا۔ وزیر نے کہا کہ ماریہ متین پاکستان کی نمائندہ نہیں اور نہ ہی انہیں حکومت نے بھیجا تھا۔ ان کے مطابق یہ ان کا ذاتی عمل ہے اور حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جب وزیر سے پوچھا کہ گزشتہ دنوں ایک پاکستانی نژاد غیر ملکی شہریت رکھنے والی خاتون جسے امریکی خلائی ادارے نے خلا میں بھیجنے کے لیے منتخب کیا ہے اس پر تو پاکستان نے فخر محسوس کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلی پاکستانی ہیں لیکن ’مس بکنی‘ کے مقابلے میں شرکت کرنے والی پہلی پاکستان نژاد غیر ملکی خاتون سے وہ لاتعلقی کیوں ظاہر کر رہے ہیں ؟ تو وزیر نے کہا کہ خلا میں جانا اور ’مس بکنی‘ کے مقابلے شرکت کرنا علیحدہ علیحدہ معاملات ہیں۔ ان کے مطابق اسلام عریانی کے خلاف ہے اور پاکستان کی ثقافت اور ماحول اُسے برا سمجھتا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے وزارت ثقافت کے ایک افسر عبدالحفیظ چودھری کے حوالے کہا ہے کہ انہوں نے واشنگٹن اور بیجنگ میں قائم پاکستانی سفارتخانوں سے کہا ہے کہ وہ اس بارے میں معلومات حاصل کریں کہ ماریہ متین بطور نمائندہ پاکستان اس مقابلے میں کیسے شریک ہوئیں۔ لیکن اس بارے میں جب وزیر سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے سفارتخانوں سے کوئی کوئی رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔ |
اسی بارے میں ملکہ حسن کی بلیئر پر تنقید31 August, 2006 | فن فنکار سشمیتا:ہالی ووڈ نہیں چین23 June, 2005 | فن فنکار مس تبت مقابلے کی اکلوتی امیدوار01 October, 2005 | فن فنکار مس پیرو مقابلہ حسن جیت گئیں04 December, 2004 | فن فنکار آسٹریلوی حسینہ نئی مس یونیورس02 June, 2004 | فن فنکار سیالی بھگت بڑی بھاگیہ وان نکلِیں09 April, 2004 | فن فنکار مس ورلڈ کا انتخاب06 December, 2003 | فن فنکار مس آئرلینڈ حسینہ عالم منتخب06 December, 2003 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||