Thursday, 20 July, 2006, 12:39 GMT 17:39 PST
نثار کھوکھر
لاڑکانہ
وہ ایک عرصے سے سیاست چھوڑ کراپنے خاندان کے ساتھ اس امید سے کراچی جیسے ساحلی شہر میں آ بسا کہ یہاں کوئی اسے پہچان نہ سکے گا۔ لیکن آصف بالادی کا یہ گمان اس جون میں تب غلط ثابت ہوا جب وہ گھر سے نکلتے ہی پراسرار طور پہ لاپتہ ہوگیا۔
26 جون کی صبح سے لاپتہ سندھ نیشنلسٹ فورم کے سربراہ آصف بالادی نے ایک دن بعد اپنے گھر فون کر کے سرور نامی ایک شخص کو پاسپورٹ اور شناختی کارڈ دینے کے لیئے کہا۔ آصف کے بڑے بیٹے جبران بالادی نے بتایا: ’فون پر وہ کچھ گھبرائے ہوئے تھے اور جو آدمی کاغذات لینے آئے وہ کبھی ابا کے دوست نہیں رہے بلکہ مشکوک لوگ لگ رہے تھے جس وجہ سے ہم نے کاغذات ان کو نہیں دیے۔‘
جبران کے وکیل سید غلام شاہ نے بتایا کہ وفاقی وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کے نمائندوں کو عدالت میں طلب کرنے کی استدعا کی گئی ہے کہ وہ عدالت کو بتائیں کہ آصف بالادی کو کس خفیہ ادارے نے کون سے الزام کے تحت گرفتار کیا ہے۔
آصف کے خاندان کا کہنا ہے کہ جو لوگ کاغذات لینے آئے انہوں نے اپنا تعارف ISI کے بریگیڈئیر سلیم کے ملازموں کی حیثیت سے کرایا تھا۔
40 سالہ آصف بالادی80 کی دہائی میں ’جئے سندھ‘ کے پلیٹ فارم سے طالبعلم سیاست میں سرگرم رہا لیکن پارٹی میں اندرونی اختلافات کی بنا پر وہ سیاست سے کنارہ کش ہو گیا اور کاروبار کرنے لگا۔ اس کے دوستوں کا بہت ہی محدود حلقہ رہتا تھا جنہوں نے ’نیشنلسٹ فورم‘ نامی غیر سیاسی ادارے کو جاری رکھا۔
آصف بالادی شادی شدہ ہے۔ اس کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں جو کہ آجکل بہت ہی سہمی سی زندگی گزار رہے ہیں۔ آصف بالادی کے لاپتہ ہونے کے بعد اس کے خاندان نے کراچی کا فلیٹ چھوڑ کر جامشورو میں رہائش اختیار کر لی ہے۔ سب سے زیادہ پریشان حال آصف کی ماں ہے۔
آصف نے سندھ نیشنلسٹ کے فورم سے مارچ 2007 میں عالمی پیغام سندھ کانفرنس کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حیدرآباد کے قریب بھٹ شاہ کے مقام پر متوقع اس تقریب میں صوفی شاعروں کے کلام پر روشنی ڈالنے کے لیے عالمی مفکرین کو مدعو کرنا تھا۔
گزشتہ ایک سال سے کچھ زیادہ عرصے میں سندھ سے لاپتہ ہونے والے افراد کی فہرست میں آصف کا نمبر تیسواں بتایا جاتا ہے۔ قوم پرست جماعت ’جیئے سندھ‘ قومی محاذ نے سیاسی کارکنوں کو اٹھا کر لاپتہ کرنے کے حکومتی اقدامات کے خلاف 31 جولائی کو سکھر کے قریب نیشنل ہائی وے پر دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔