Wednesday, 28 June, 2006, 01:56 GMT 06:56 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقہ خیبر ایجنسی کی انتظامیہ نے ٹرائیبل یونین آف جرنلٹس کے صدر سمیت تین قبائلی صحافیوں کو رہا کر دیا ہے۔
صحافیوں کی رہائی اخباری نمائندوں اور ذخہ خیل قوم پر مشتمل ایک قبائلی جرگے کے لنڈی کوتل انتظامیہ کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد عمل میں لائی گئی۔
رہا ہونے والے صحافی اور ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس خیبر ایجنسی کے صدر خلیل آفریدی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اور انکے دو دوسرے ساتھی سدھیراحمد آفریدی اور ابو ذر کو پولیٹکل انتظامیہ نے حکومت کو مطلوب لشکر اسلامی کے کمانڈر منگل باغ کا انٹرویو کرنے پر گزشتہ روز حراست میں لیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ منگل باغ کا انٹرویو کرنے کے بعد انہیں اور ان کے دوسرے ساتھیوں جو ان کے ساتھ انٹرویو میں موجود تھے کئی دنوں سے انتظامیہ کی جانب سے دھمکیاں مل رہی تھی۔ خلیل آفریدی کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز لنڈی کوتل کے تحصیلدار نے ان تینوں صحافیوں کو دفتر طلب کیا اور ہمیں دھمکیاں دی گئی کہ وہ آئندہ ایسے انٹرویو کرنے سے اجتناب کرے اور جب ہم نے انکار کیا تو ہمیں وہی پر گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے ان کو پاگلوں والے حوالات میں رکھا اور رات کو شدید گرمی میں ان کے اوپر بجلی بھی بند کردی گئی۔
قبائلی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ذخہ خیل قوم کے سرکردہ قبائلی عمائدین جن کی کوششوں سے صحافیوں کی رہائی عمل میں لائی گئی ہے نے انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ رہا ہونے والے صحافی آئندہ انتظامیہ کو مطلوب افراد کو کوریج نہیں دینگے۔
واضع رہے کہ گزشتہ دنوں شمالی وزیرستان میں قبائلی صحافی حیات اللہ کی گولیوں سے چلنی لاش ملی تھی۔ وہ چھ مہینوں سے لاپتہ تھے ان کے اہل خانہ الزام لگاتے ہیں کہ حیات اللہ کے قتل میں ملک کے حساس ایجنسیوں ملوث ہیں۔