Thursday, 22 June, 2006, 12:26 GMT 17:26 PST
تین ماہ خفیہ اداروں کی حراست میں رہنے کے بعد اچانک نمودار ہونے والے صحافی مکیش روپیٹا کے بھائی ڈاکٹرگھنشام نے سوال کیا ہے کہ مکیش کی پانچ ماہ تک مسلسل گمشدگی کے باعث پورے خاندان کو پہنچے والی اذیت کا ذمہ دار کون ہے؟
پولیس ابتدا میں یہ کہتی رہی کہ انہیں شہباز ایئر بیس کے کچھ شاٹس بنانے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہے اور ضروری پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیا جائے گا۔
لیکن پولیس کی حراست سے انہیں آٹھ مارچ کو خفیہ ادارے والے اٹھا کر لے گئے اور اس کے بعد سے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ خاندان کو یہ تک نہیں بتایا گیا کہ انہیں کہاں اور کس الزام کے تحت قید رکھا گیا تھا۔
ڈاکٹرگھنشام نے کہا کہ ان کا خاندان بے بسی اور خوف کے عالم میں تھا اور اسی بنا پر انہوں نے مکیش کی گمشدگی کے خلاف کوئی درخواست دائر نہیں کی۔
انہوں نے کہا کل مکیش کو عدالت میں پیش کیا گیا اور ان سے خاندان والوں کی مختصر ملاقات کرائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مکیش پر اب چوری چوری فلم بندی کرنے کا الزام عائد کیا گیا اور انہیں الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ جیک آباد کا شہباز ائیربیس افغانستان پر امریکی حملے سے قبل امریکی فوج کے حوالے کر دیا گیا تھا اور اس کے بعد سے حکومت اس سلسلے میں کوئی اطلاع فراہم کرنے سے انکار کرتی ہے۔