BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 19 June, 2006, 11:16 GMT 16:16 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
صابر کی ماں کا صبر
 

 
 
صابر جنوری دو ہزار پانچ کو ہری پور جیل میں ہی زندگی کی بازی ہار گیا

’اس نے جہاد کے لیئے افغانستان جانے کی اجازت مانگی تو میں چھ ماہ تک انکار کرتی رہی۔ پھر مجھے خیال آیا کہ اللہ کا ترکہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔ کہیں اللہ ناراض نہ ہوجائے کہ میری راہ میں آنے سے روک رہی ہے۔ بس پھر میں نے تھپکی دی کہ جا بیٹا میں نے تجھے بتیس دھاریں بخش دیں‘۔

ڈیرہ غازی خان شہر کے مضافات میں واقع بستی وڈانی میں اپنے کچے گھر میں بیٹھی صابر علی کی ماں اپنے بیٹے کے بارے بتا رہی تھی جو امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے خود کش حملوں سے صرف ایک مہینہ پہلے اگست دو ہزار ایک میں ماں باپ سے یہ کہہ کر افغانستان روانہ ہوا تھا کہ وہ وہاں ’منافقین‘ کے خلاف جہاد کرنے جا رہا ہے۔

صابر علی ان چار سو ’پاکستانی طالبان‘ میں شامل تھا جنہیں نائن الیون کے بعد افغانستان پر امریکی حملے کے نتیجے میں مضبوط ہونے والے شمالی اتحاد کے جنرل عبدالرشید دوستم نے مبینہ طور پر ہتھیار پھینکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ان پاکستانی طالبان کو تین سال تک شبرگان کی بدنام زمانہ جیل میں قید رکھا گیا اور پھر کچھ عرصہ کابل کی پل چرخی جیل میں رکھنے کے بعد پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا تھا۔

بے جا قید
 ’پاکستان میں میرے بیٹے کو بے جا قید رکھا گیا۔افغانستان سے آنے پر حکومت انہیں کہہ دیتی کہ جہاد ختم، اب ادھر کا رخ نہ کرنا۔۔۔۔ وہ نادان تھے بس جذباتی ہوکر چلے گئے تھے۔
 
صابر کی ماں

پاکستان میں ان کو ابتداء میں پشاور اور پھر صوبہ سرحد ہی کے علاقے ہری پور کی جیل میں رکھا گیا۔ شبرگان جیل میں ہونے والے مبینہ انسانیت سوز مظالم کے نتیجے میں صابر علی کے گردے شدید متاثر ہوئے اور پاکستان آنے کے بعد وہ پہلے ابیٹ آباد کے ایوب ہسپتال اور پھر راولپنڈی کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال میں زیر علاج رہا۔ وہ چار جنوری دو ہزار پانچ کو ہری پور جیل میں ہی زندگی کی بازی ہار گیا۔

صابر علی کی ماں اسے یاد کرتے ہوئے کہتی ہے ’وہ شرارتی اور نکما تھا۔ کام کرنے سے بھاگتا تھا۔ کبھی کبھی غصے میں آکر اس کی تھوڑی بہت پٹائی کرتی تو وہ رونے لگ جاتا اور بس۔۔۔۔۔۔ پھر میرے بھی آنسو نکل آتے۔ مجھے پیارا تھا۔ اولاد میں سب سے چھوٹا جو تھا‘۔

صابر کے والد حاجی گل شیر بتاتے ہیں کہ جب ان کا بیٹا افغانستان کے لیئے روانہ ہوا تو اس وقت اس کی عمر بیس سال سات ماہ تھی۔’وہ بنیادی طور پر ایک ڈرپوک بچہ تھا جو تھوڑی سی آندھی چلنے پر بھی کمرے میں دبک کر بیٹھ جاتا تھا۔۔۔ پھر پتہ نہیں یکایک اسے کیا ہوا کہ لڑنے اور جہاد کی باتیں کرنے لگ گیا‘۔

گل شیر بتاتے ہیں کہ جیش محمد (اب کالعدم عسکریت پسند تنظیم) کے لوگ بستی بستی پھر کر نوجوانوں کو جہاد کی ترغیب دیتے تھے اور وہ ان کے گاؤں کی مسجد میں بھی آتے تھے جہاں صابر نماز پڑھنے جایا کرتا تھا۔ ’افغانستان جانے سے پہلے وہ بالا کوٹ سے تین یا چار ماہ کی عسکری تربیت بھی لے کر آیا تھا‘۔
صابر کے والدین
’بس پھر میں نے تھپکی دی کہ جا بیٹا میں نے تجھے بتیس دھاریں بخش دیں‘

انہوں نے بتایا کہ ہری پور جیل میں ہونے والی ملاقاتوں میں صابر اکثر ’دوستم کے مظالم‘ کے قصے سنایا کر تا تھا کہ کس طرح انہیں بھوکا پیاسا رکھا جاتا تھا اور بھوک کے مارے اگر وہ درختوں سے پتے توڑ کر کھاتے ہوئے دیکھے جاتے تو جلاد دس دس کوڑے لگا دیتا تھا۔

’پاکستان میں میرے بیٹے کو بے جا قید رکھا گیا۔افغانستان سے آنے پر حکومت انہیں کہہ دیتی کہ جہاد ختم، اب ادھر کا رخ نہ کرنا۔۔۔۔ وہ نادان تھے بس جذباتی ہوکر چلے گئے تھے۔ ضیاء دور سے لوگ جہاد کے لیئے افغانستان جا رہے تھے۔۔۔۔۔ مشرف دور میں بھی امریکہ پر حملہ ہونے سے پہلے تک یہ سلسلہ جاری تھا ‘۔

گل شیر کا کہنا تھا کہ افغانستان سے واپسی پر صابر کی بیماری پر اٹھنے والے اخراجات انہوں نے گھر کی چیزیں بیچ کر اور لوگوں سے مدد مانگ کر پورے کیئے۔ ’نہ حکومت نے ساتھ دیا اور نہ ہی جہادی تنظیم نے پلٹ کر پوچھا۔ہم پاک فوج کو اس لیئے سلام کہتے ہیں کہ وہ حفاظت کرتی ہے ۔۔۔۔ ہمارے بچوں نے بھی تو حفاظت کی ۔۔۔ دین کی خدمت کی۔ان شہیدوں کے بھی تو بوڑھے والدین اور بیوی بچے ہوتے ہیں جن کے پاس نہ کوئی جائیداد، نہ گھر ۔۔۔ بلکے روٹی پوری نہیں ہوتی۔ لیکن ہم سے تو آج تک کسی نے نہیں پوچھا کہ کیسے ہو؟‘

صابر علی کے بارے لوگوں نے بتایا کہ وہ اپنی ہی بستی کے ایک اور نوجوان نیاز احمد کی افغانستان میں ’شہادت‘ سے متاثر ہو کر جہاد پر گیا تھا۔ نیاز کے والد غلام علی نے بتایا کہ ان کا بیٹا گیارہ جولائی دو ہزار ایک کے روز قندوز میں شمالی اتحاد کے ساتھ لڑائی میں جان دے بیٹھا تھا۔

نیاز ’جہادی‘ ہونے سے پہلے موٹر مکینک تھے۔ ان کے والد نے بتایا کہ ان کے بیٹے کی میت جیش محمد والے لائے تھے۔ لیکن اس کے بعد انہوں نے کبھی رابطہ نہیں رکھا۔ ’پابندی لگنے کی وجہ سے شاید غائب ہوگئے ہوں۔ دفتر پر بھی تالے لگے ہوئے ہیں ۔۔۔۔ ورنہ میں جا کر ضرور پوچھتا کہ ہمارے بچوں کو دشمن کے حوالے کیوں کیا؟ اس کا جسم تو غائب ہے لیکن یاد ہر وقت ساتھ ہے۔ روٹی کھاتے، پانی پیتے ۔۔۔ چلتے پھرتے۔ کوئی شادی ہو یا میلہ ۔۔۔۔ بس ۔۔۔ وہ کہیں سے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے‘۔

 
 
اسی بارے میں
ڈھوک کشمیریاں کا عامر
11 May, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد