Tuesday, 23 May, 2006, 07:52 GMT 12:52 PST
حسن مجتبیٰ
سان ڈیاگو، کیلیفورنیا
امریکہ میں مقیم ایک سندھی قوم پرست کارکن ڈاکٹر صفدر سرکی پچھلے تین ماہ سے پاکستان میں لاپتہ ہیں اور ان کے خاندانوالوں کا کہنا ہے کہ انہیں خفیہ اداروں نے کراچی میں ایک چھاپے کے دوران حراست میں لیا تھا۔
یہ بات ڈاکٹر صفدر کے بھائی نے ریاست ٹیکساس کے شہر ایل کیمپو سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو ٹیلیفون پر بتائی۔
ڈاکٹر صفدر سرکی جیۓ سندھ قومی محاذ کے سیکرٹری جنرل ہیں اور امریکی شہری ہیں۔
پاکستانی حکام نے سندھ ہائیکورٹ میں ڈاکٹر صفدر سرکی کے بارے میں بیان دیا ہے کہ وہ کسی بھی سرکاری ایجنسی کی تحویل میں نہیں لیکن امریکہ میں رہنے والے ان کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ وہ خفیہ ایجنسیوں کی تحویل میں ہی ہیں۔
اطہر سرکی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے اپنی بات چیت میں بتایا کہ ان کے والد ڈاکٹر صفدر کی گمشدگی کے صدمے میں فوت ہوگئے اور وہ ڈاکٹر صفدر کے اہل خانہ اس میں شرکت کے لیے نہيں جا سکے کیونکہ کراچی اور لاڑکانہ میں رہنے والی ان کی بہنوں نے بتایا تھا کہ ایجنسی والے انہیں بھی ہراساں کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صفدر سرکی کے پڑوسیوں سمیت سینکڑوں لوگوں نے ’سادہ کپڑوں‘ اور ایک وردی والے عملدار کی سربراہی میں صفدر سرکی پر تشدد کرتے ہوئے لے جاتے دیکھا تھا۔
تاہم مذکورہ پولیس عملدار نے سندھ ہائی کورٹ میں ڈاکٹر صفدر سرکی کی مبینہ گرفتاری اور پھرگمشدگی کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے صفدر سرکی کو گرفتار نہیں کیا تھا۔
اطہر سرکی نے ایک سوال کے جواب میں کہا صورتحال خطرناک ہے کیونکہ سرکاری ایجنسیاں صفدر سرکی کو اپنی تحویل میں ہونے کی صاف تردید کرتی رہی ہیں۔ ’ ہم ان کی زندگی اور سلامتی کے بارے میں شدید تشویش میں ہیں اور ہمیں خدشہ ہے کہ اگر وہ زندہ ہیں تو ان پرسخت تشدد کیا جارہا ہے۔‘
اطہر سرکی نے اپنے سندھی قوم پرست بھائی صفدر سرکی کی مبینہ گمشدگی میں کسی بھی غیر ریاستی اور ذاتی دشمنی کے امکانات کو مسترد کیا۔
ڈاکٹر صفدر سرکی کی اہلیہ پارس سرکی، بیٹا الاہی اور بھائی اطہر سرکی اپنے علاقے کے امریکی قانون سازوں اور محکمہ خارجہ کے افسران سے بھی صفدر سرکی کو پاکستانی حکومتی ایجینسیوں سے رہائی دلوانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔
اطہر سرکی نے بتایا کہ امریکی حکومت کے اہلکاروں نے بھی پاکستانی حکام سے رابط کیا ہے جنہیں بھی یہ بتایا گیا ہے کہ صفدر سرکی کسی بھی سرکاری ایجنسی کی تحویل میں نہیں اور نہ ہی انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر صفدر سرکی سندھی قوم پرست تنظیم جیۓ سندھ قومی محاذ کے سیکرٹری جنرل اور برطانیہ اور امریکہ میں ایک سرگرم تنظیم ورلڈ سندھی کانگریس کے سابق چیئرمین ہیں تاہم ان کے کچھ مخالف حلقوں میں انہیں انتہا پسند سمجھا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ بینظیر بھٹو کے پچھلے دور حکومت میں ایم کیو ایم یا متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے کارکنوں کی ایک بہت بڑی تعداد کے مبینہ گم ہونےکی شکایات اقوام متحدہ تک پہنچائي تھیں۔
حال ہی میں غائب ہو جانے والے پشتون صحافی حیات اللہ سمیت ان گمشدگان میں اکثریت بلوچ اور سندھی سیاسی کارکنوں کی ہے۔ صفدر سرکی، ستار ہکڑو، مظفر بھٹو، شاعر نواز زونئر، جمہوری وطن پارٹی کے رؤف ساسولی، بلوچ افسانہ نگار حنیف شریف اور حکومت پاکستان کو بلوچ وائیس ٹی وی چینل کھولنے کے درخواست دہندہ منیر مینگل سمیت ایسے کارکنوں اور رہنماؤں کے عزیز و اقارب ان کی تصاویر اٹھائے ملک کے پریس کلبوں کے باہر انکی رہائي کے لیے مظاہرے کرتے رہے ہیں۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق مظفر بھٹو اور ستار ہکڑو کے بھائیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اکتوبر دو ہزا پانچ سے اپنے گم شدہ بھائيوں کی علامتی طور تعزیت وصول کرنا بھی شروع کردی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے۔’اگر انہیں مار بھی دیا گیا ہے تو کم از کم ان کی لاشیں تو ہمارے حوالے کی جا ئيں‘ گمشدگان میں سے ایک کے بھائی سہیل ہکڑو کو اس رپورٹ میں کہتے بتایا گیا تھا۔