BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت:
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’بلوچوں کو کہیں تو آواز اٹھانی ہے‘
 

 
 
بلوچ
ستر کی دہائی میں چملان میں پہاڑوں میں گھرے ہوئے پچاس میل کے علاقے میں کوئی پندہ ہزار مری خانہ بدوشوں نے بمباری سے بچنے کے لیئے کالے رنگ کے خیموں کا گاؤں قائم کیا تھا
انیس سو اسی کی دہائی میں بلوچستان یا یوں کہا جائے کہ پاکستان میں قوم پرست تحریکوں میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں میں تب امریکی صحافی سلیگ ہیریسن اپنی کتاب ’ان افغانستانز شیڈو‘ کی وجہ سے بہت مقبول ہوئے تھے جو انہوں نے انیس سو ستر کی دہائی میں ہونیوالی بلوچستان میں بغاوت پر لکھی تھی۔

اپنی اسی کتاب میں انہوں نے سوویت یونین کے ٹوٹ جانے اور سرد جنگ کے خاتمے کی بھی پیشنگوئی کی تھی۔ آج بھی انگریزی زبان میں بلوچستان پر لکھی ہوئی یہ کتاب پاکستان میں بلوچ بے چینی اور بغاوت کی بائیبل مانی جاتی ہے۔
پاکستان میں بلوچستان پر بہت سے سنجیدہ حلقے اس امریکی صحافی اور جنوبی ایشیائی امور کے ماہر کی پشنگوئیوں کو پیغمبرانہ سمجھتے ہیں تو کچھ ان کو ’سی آئی اے ایجنٹ‘۔

لیکن سب اس بات پر متفق ہیں کہ انکی یہ کتاب آج بھی بلوچـستان پر واحد اور مستند کتاب مانی جاتی ہے۔ انیس سو اسّی کی دہائی میں یہ کتاب حیدرآباد پریس کلب میں ہونیوالی کتابوں کی نمائش میں موجود تھی لیکن میں وہاں ہمیشہ اپنے ’اب اس جیب کو حاجت رفو کیا ہے‘ کے مصداق خرید نہیں کر سکا تھا-

مگر میں نے دو دفعہ دو دوستوں سے ادھار لے کر کتاب پڑھی ضرور۔ بڑے ہوکر جب یہ کتاب خرید کرنے کے حالات ہوئے تو وہ پاکستان میں نایاب ہو چکی تھی۔ پھر ایک دفعہ میں نے اپنے چھوٹے بھائی کے دوست سے یہ کتاب ادھار لی۔ دوسری بار مجھے یہ کتاب رشید قیصرانی سے مستعار لینے کے لیئے کراچی سے اسلام آباد سفر کرنا پڑا۔

پاکستان میں آخری بار میں جو ایک اور اسٹوری کر رہا تھا وہ بھی ’بلوچستان بغاوت‘ کے بارے میں لوگوں کی یادداشتوں پر تھی۔ اس اسٹوری کے نوٹس بھی میں کہیں نیویارک میں بروکلین میں کسی لبنانی کیفے میں بھول آیا۔

سلیگ ہیریسن کو قریب سے دیکھا، ان سے ملا اور ایک دفعہ تو ہم نے ایک چھت کے نیچے بلوچستان بر ورلڈ سندھی انسٹیٹیوٹ کی طرف سے سینیٹ کے ریبرن ہال میں منعقد کیے جانیوالے مکالمے میں بھی حصہ لیا۔

یہ دبلے پتلے جسم لیکن مضبوط اور مسحور کن آواز والا امریکی میرا خیال ہے کہ دل بلوچ رکھتا ہے۔ سلیگ ہیریسن گزشتہ جمعرات کو واشنگٹن میں یونائيڈ اسٹیٹس انسٹیٹوٹ آف پیس نامی غیر سرکاری تھنک ٹینک میں ’بلوچستان میں بحران‘ کے عنوان سے ہونیوالے سیمینار میں بولے ہیں-

اس سیمینار میں سن انیس سو تہتر کی بلوچ بغاوت میں شامل سمجھے جانیوالے اور اب صحافی نجم سیٹھی بھی سامعین میں موجود تھے۔

سلیگ ہیریسن نے امریکی حکومت سے کہا کہ مشرف حکومت کے بلوچستان میں مبینہ طور پر جاری فوجی کارروائی کے خاتمے اور بلوچ رہنماؤں سے بات چیت شروع کرنے تک پاکستان کو امریکی امداد روک دی جائے-

سیمینار کے دوسرے مقررین میں سے لندن سے سینیٹر ثناء اللہ بلوچ نے ٹیلیفون پر اور پاکستان میں سابق فرانسیسی سفارتکار اور محقق فریڈرک گیريئر تھے۔
سوالات و جوابات میں بھی کافی گرما گرمی رہی-

مذاکرے کی میزبان غیر سرکاری تنظیم کو امریکی کانگرس کی مالی مدد حاصل ہے۔ مذاکرے میں موجود ایک صحافی نے بتایا کہ واشنگٹن میں پاکستانی سیاست اور خاص طور پر بلوچستان کے موجودہ حالات پر نظر رکھنے والے حلقوں کی اس سیمینار میں نہایت ہی دلچسپی دیکھنے میں آئی-

مذاکرے کے شرکا میں امریکی محکمہ خارجہ کے نمائندے، صحافی نسیم زہرہ خاور مہدی اور احمر مستی خان اور پاکستانی اور ایرانی بلوچ قوم پرست بھی شامل تھے۔

سلیگ ہيریسن نے سامعین کو تیس سالہ قبل ہونے والی بلوچ بغاوت کے واقعات بتاتے ہوئے کہا کہ آج کے بلوچ مزاحمتکاروں میں وہ غصہ اور بلوچوں میں وہ احساس محرومی پائی جاتی ہے جو تیس سال قبل موجود تھی۔ سلیگ ہیریسن نے اپنی کتاب کے لیئے تحقیق کے دوران پاکستانی فوج کے افسروں اور افغانستان میں اس وقت جلاوطن بلوچ مزاحمت کے رہنماؤں سے کی ہوئی اپنی ملاقاتوں کے دوران معلوم کیے گۓ اس واقعے کا بھی ذکر کیا جب تین دسمبر انیس سو چوہتر میں مری قبائل کے خلاف پاکستانی فوج نے ’آپریشن چملان‘ نام سے کارروائی کی تھی-

چملان میں پہاڑوں میں گھرے ہوئے پچاس میل کے علاقے میں کوئی پندہ ہزار مری خانہ بدوشوں نے بمباری سے بچنے کے لیئے کالے رنگ کے خیموں کا گاؤں قائم کیا تھا- پاکستانی فوج نے، بقول سلیگ ہیریسن درست اندازہ لگایا کہ اگر ان پچاس میلوں میں قائم مری قبائلیوں کی اس خیمہ بستی پر حملہ کیا جائے تو اپنے کنبوں کو بچانے کیلیے بلوچ گوریلے پہاڑوں سے کھلے میں اتر آئيں گے۔

چند جھڑپوں کے بعد پاکستانی فوج نے زمینی اور فضائی حملے کیے، جن میں شاہ ایران کی حکومت سے ایرانی فضائيہ کے پائلٹوں سمیت کوبرا ہیلی کاپٹروں اور پاکستانی فضائیہ کے میراج طیاروں نے بھی حصہ لیا تھا۔

بلوچ گوریلے مریوں کے خیموں کے گرد حصار باندھے تین دن اور تین راتوں تک لڑتے رہے تھے اور گولہ بارود ختم ہونے پر فرار ہوگئے۔

لیکن، سلیگ ہیریسن نے کہا کہ آجکے بلوچستان میں فوجی حالات کیسے ہیں؟ انکے بارے میں کوئی بھی کچھ وثوق سےنہیں کہہ سکتا کیونکہ مشرف حکومت زیاد تر صحافیوں کو (سب کو نہیں) وہاں جانے نہیں دے رہی اور مسلسل بلوچستان میں کسی بھی فوجی آپریشن کی تردید کر رہی ہے-

سلیگ ہیریسن نے امریکی انٹیلیجنس ذرائع کے حوالے سے اپنے مقالے میں دعویٰ کیا کہ اس وقت بلوچستان میں چھ پاکستانی آرمی بریگیڈز اور اتنی ہی تعداد میں نیم فوجی فورسز کے سمیت کوئی پچیس ہزار جوان بلوچ لبریشن آرمی سے لڑنے کیلیےکوہلو اور دوسرے علاقوں میں تعینات ہیں-

سلیگ ہیریسن نے مزید کہا، دوسری طرف آزدانہ طور پر کام کرنیوالی ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے مہیا کیے گئے بیس کوبرا ہیلیکاپٹر گن شپس اور پاکستان فضائیہ کی چار اسکواڈرن جن میں دو ایف سولہ لڑا کا جیٹ طیارے بھی شامل ہیں کے ذریعے اندھا دھند بمباری کی وجہ سے عورتوں اور بچوں سمیت دو سو افراد ہلاک اور ایک سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

سلیگ ہیریسن نے کہا کہ پاکستان کو امریکہ کی طرف سے مہیا کردہ وہ طیارے دہشتگردی کا قلع قمع کرنے کے لیئے طالبان اور القائدہ کے خلاف جنگ میں استعمال ہونے تھے لیکن پاکستانی حکومت انہیں بلوچستان میں استعمال کر رہی ہے۔ انہو‍ں نے کہا کہ اس سال کی شروعات میں میں پاکستان کا دورہ کرنے والے انڈر سیکرٹری خارجہ نکولس برنز نے کہا تھا کہ بلوچستان کا مسئلہ پاکستان کا اندورنی مسۂلہ ہے جوانہوں نے صدر مشرف کے ساتھ اٹھایا ہے- ’سلیگ ہیریسن نے کہا‘ کہ اسی پالسی کو بدلنا چاہیے۔ بش انتظامیہ کو مشرف کو بلوچستان میں فوجی جبر ختم کرکے بلوچ قیادت سے فوری سنجیدہ مذاکرات شروع کرنے کا کہنا چاہیے۔’ایک دفعہ اسلام آباد اور بلوچوں کے درمیاں پر پر امن اور نتیجہ خیز مذاکرات سے ایک دفعہ بحران ختم ہو جائے تو پھر اسکے بعد امریکہ کو پاکستان میں جمہوری عمل کی طرف واپسی میں مدد کر نی چاہیے جس میں بلوچوں سندھیوں اور پشتونوں سمیت تمام صوبوں کو انیس سو تہتر کے آئین کے تحت خود مختیاری کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا ’پاکستان میں فوجی حکومت کے خاتمے کے بغیر استحکام ناممکن ہے-‘
اس سےقبل بلوچ قومپرست رہنما سینیٹر ثناءاللہ بلوچ نے لندن سے براہ راست ٹیلیفون پر اپنے خطاب میں بلوچ کارکن ڈاکٹر اضغر بنگلزئی سمیت انٹیلیجنس ایجینسیوں کے ہاتھوں مبینہ طور پر گمشدہ کارکنوں کی تعداد ساڑہے چار سو بتائی-
مذاکرے میں شریک صحافی نسیم زہرا نے سلیگ ہیریسن سے پوچھا کیا وہ اسی طرح ہندستانی فورسز کے ہاتھوں کشمیر میں انسانی خلاف ورزیوں کو ایکسپوز کریں گے جسطرح وہ بلوچوں پر بات کرتے ہیں؟

محفل میں شریک ایک شخص نے مقررین سے سوال کیا کہ کیا وہ بلوچستان کے مسئلے کو ’انٹر نیشنلائيز‘ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں ؟ جواب میں فرانسیسی محقق فریڈرک گريئر نے کہا کہ ’بلوچ خوش قسمت ہیں کہ انکی آواز سننے کے لیے بین الاقوامی برادری موجود ہے چاہے وہ غلط ہوں یا صحیح۔ جب بلوچ ویب سائٹوں پر ہی پاکستانی حکومت بندش ڈال دے تو پھر بلوچوں کو کہیں تو اپنی آواز اٹھانی ہی ہے‘۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد