ریبا شاہد
کراچی
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے چار ایسی ویب سائٹوں تک رسائی روکنے کی ہدایات دی ہیں جن پر بلوچ قوم پرست مواد موجود ہے۔
پچیس اپریل کو پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ ہدایت نامے میں غلط معلومات کی تشہیر کو وجہ قرار دیتے ہوئے ملک میں کارفرما انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ’بلوچ وائس ڈاٹ کام‘، ’بلوچ 2000 ڈاٹ اورگ‘، ’بلوچ فرنٹ ڈاٹ کام‘، ’سنا بلوچ ڈاٹ کام‘ اور ’ہندو یونٹی ڈاٹ کام‘ تک رسائی روکنے کے احکامات جاری کیئے ہیں۔
اسی طرح’بلوچ 2000 ڈاٹ اورگ‘ پر مقامی زبان میں بلوچستان کی تاریخ، ثقافت، خبریں اور بقول اس ویب سائٹ کے، ’حکومت کے بلوچ قوم کے ساتھ امتیازی سلوک‘ پر تحریرں موجود ہیں۔
![]() | |
| بلوچ 2000 ڈاٹ اورگ پر مقامی زبان میں بلوچستان کی تاریخ، ثقافت اور خبریں موجود ہیں۔ |
’سنا بلوچ ڈاٹ کام‘ بطور ایک زیر تعمیر ویب سائٹ یا ’پارکڈ ڈومین‘ ظاہر ہوتی ہے جبکہ ’ہندو یونٹی ڈاٹ کام‘ پر ہندو قوم پرست مواد کی تشہیر کی گئی ہے۔
اس معاملے پر پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کے اہلکار خرم علی مہران کا کہنا ہے کہ جب بھی کسی ویب سائٹ پر پابندی لگائی جاتی ہے تو ایسا حکومتِ پاکستان کی پالیسیوں کے تحت کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ اٹھائیس فروری کو پی ٹی اے کی جانب سے پیغمبر اسلام کے متنازعہ کارٹون شائع کر نے والی ویب سائٹس پر پابندی لگانے کے بعد پاکستان سے ’بلاگ سپاٹ‘ نامی ویب سائٹ تک رسائی بند ہوگئی تھی۔ تاہم تازہ ہدایت نامہ میں ملک میں کار فرما انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ’وکی پیڈیا‘ پر ڈنمارک کے اخبار ’جیلانڈز پوسٹن‘ میں شائع شدہ پیغمبراسلام کے توہین آمیز خاکوں پر مضمون اور خاکوں والےصفحات تک رسائی روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔