Wednesday, 22 March, 2006, 13:21 GMT 18:21 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سندھ کی سرگرم قوم پرست جماعت جئے سندھ قومی محاذ کے مرکزی رہنما کے لاپتہ ہونے کے خلاف کراچی میں بدھ کو بڑی تعداد میں قوم پرست کارکنوں نے گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا دیا گیا۔
جی ایم سید کے فکر کی پیروکار جماعت جئے سندھ قومی محاذ کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر صفدر سرکی گزشتہ ایک ماہ سے لاپتہ ہیں۔
ڈاکٹر صفدر سرکی کو امریکی شہریت بھی حاصل ہے اور وہ گزشتہ کافی برسوں سے ہوسٹن میں رہائش پذیر تھے ،جہاں وہ ورلڈ سندھی کانگریس تنظیم کے صدر بھی رہے۔
جئے سندھ قومی محاذ کی جانب سے بدھ کو گلشن حدید سے ریلی نکالی گئی، جس نے گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا۔
ریلی سے تنظیم کے چئرمین بشیر قریشی نے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ڈاکٹر صفدر سرکی آئی ایس آئی کی قید میں ہیں جن پر تشدد کیا جارہا رہے۔
![]() | |
| جئے سندھ قومی محاذ کے رہنما بشیر قریشی کا کہنا تھا کہ ہم پرامن سیاسی جدوجہد میں یقین رکھتے ہیں |
بشیر قریشی کا کہنا تھا کہ ’ہم پرامن سیاسی جدوجہد میں یقین رکھتے ہیں، مگر حکمران ہمیں پرتشدد جدوجہد کی طرف دھکیل رہے ہیں‘۔
بشیر قریشی نے بتایا کہ ڈاکٹر صفدر سرکی کے علاوہ دیگر قوم پرست کارکن مظفر بھٹو، ستار ہکڑو، نواز خان، سکندر سومرو اور محرم ملاح بھی کئی مہینوں سے ٹارچر سیلوں میں بند ہیں۔
جئے سندھ کے رہنما نے کہا کہ ’ہم اقوام متحدہ، عالمی قوتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ پاکستان میں ہمارا وجود اور مستقبل خطرے میں ہے اور ہمیں آزادی دلوائی جائے‘۔
دوسری جانب آئی جی سندھ نے کہا ہے کہ صفدر سرکی پولیس کی تحویل میں نہیں ہیں جبکہ صوبائی وزیر داخلہ رؤف صدیقی نے بھی واضح کیا ہے کہ سندھ میں سیاسی بنیاد پر کوئی گرفتاری نہیں کی گئی ہے۔
![]() | |
| دھرنے میں شریک جئے سندھ قومی محاذ کے رہنما |
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ڈاکٹر صفدر کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ان پر اگر کوئی الزام ہے تو حکام کو دیکھنا چاہیے کے ان سے قانون کے تحت برتاؤ کیا جا رہا ہے یا نہیں۔