اہم نکات

  • وزیر اعظم میاں نواز شریف مستعفی ہوں
  • دوبارہ انتخابات کرائے جائیں
  • انتخابی اصلاحات کی جائیں
  • تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے غیرجانبدار نگراں حکومت بنائی جائے
  • تمام الیکشن کمشنرز سے استعفے لیے جائیں
  • 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی میں ملوث افراد کو سزا دی جائے اور آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلایا جائے
  • نواز شریف اور شہباز شریف استعفیٰ دیں۔ ان کو پوری کابینہ سمیت گرفتار کر کے ان کے خلاف تحقیقات کی جائیں۔
  • موجودہ اسمبلیاں غیر آئینی ہیں ان کو ختم کیا جائے کیونکہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر اس کے اراکین پورا نہیں اترتے اکثریت ٹیکس چور ہے۔
  • ان اسمبلیوں کے خاتمے کے بعد ایک قومی حکومت قائم کی جائے اور قومی اصلاحات کی جائیں۔
  • ملک میں کرپشن میں ملوث کرنے والے ہر شخص کا سخت اور کڑا احتساب کیا جائے۔
  • قومی حکومت کے ذریعے ملک کے حقوق سے محروم غریبوں کو حقوق اور ہر بے گھر شخص کو گھر دیا جائے اور 25 سالہ قرض دیا جائے جس پر سود نہ ہو۔
  • ہر شخص کو روٹی، کپڑا اور مکان فراہم کیا جائے۔
  • جس کے پاس علاج کا پیسہ نہیں اس کو سرکاری مفت علاج کرے۔
  • ملک سے جہالت کے خاتمے کے لیے ہر بچے کو مفت تعلیم فراہم کی جائے اور بالغ افراد کی تعلیم کا انتظام کیا جائے۔
  • کم وسائل کے افراد کو ضروریات کی تمام چیزیں نصف قیمت پر فراہم کی جائے اور کم آمدنی والے افراد کو بجلی، پانی اور گیس کے بلوں پر ٹیکس ختم کیا جائے اور ان کو نصف بل لیا جائے۔
  • خواتین کو معاشی ضروریات کے لیے گھریلو صنعتیں لگانے کی انتظام کیا جائے۔
  • تنخواہوں میں فرق کو ختم کرنے کے لیے کام کیا جائے تاکہ افسران اور ملازمین کے تنخواہ میں تفریق کے خاتمے سے معاشرتی فرق ختم کیا جائے۔
  • ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے اور اآئین میں ترمیم کرکے پابندی لگائی جائے کہ کوئی فرقہ دوسرے کو کافر قرار دے گا، ملک میں امن کے قیام کے سینٹر قائم کیے جائیں اور نصاب میں امن و برداشت کو بطور مضمون شامل کیا جائے۔
  • طاہر القادری نے اقلیتوں کے حوالے سے مطالبہ کیا کہ ان کو برابری کی بنیادی کی شہری دی جائے۔
  • انہوں نے مختلف ممالک کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ملک میں مزید صوبے بنائے جائیں، گلگت بلتستان اور ہزارہ کو بھی صوبے کا درجہ دیا جائے۔
  • انہوں نے بلدیاتی حکومتوں کے قیام کا بھی مطالبہ کیا ان کا کہنا تھا کہ ہم شہریوں کے مسائل مقامی طور پر حل کرنا چاہتے ہیں۔
  • انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عوامی کے حقوق کا فیصلہ پانچ افراد کرتے ہیں جن میں وزیر اعظم اور وزرا اعلیٰ شامل ہیں، قومی حکومت اقتدار میں 10 لاکھ لوگوں کو شامل کریں گے۔
  • کسی بھی کرپٹ شخص کو سرکاری عہدے پر نہیں بیٹھنے دیں گے، یہاں بڑے شخص کو سزا نہیں ملتی اور غریب کو جیل بھیج دیا جاتا ہے۔
  • دیہات کو برابری کی بنیاد پر ترقی دی جائے اور ترقی کے لیے تفریق ختم کی جائے۔
  • تمام سرکاری اداروں کو غیر سیاسی کرکے متوازی کیا جائے۔ تمام ادارے غیر سیاسی ہونے چاہیے۔

لائیو ٹیکسٹ

12:33 GMT

’کنٹینر جلد ہی پنجاب سے ہوتا ہوا سندھ آئے گا‘

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے ریڈ زون میں دھرنے کے کنٹینر کو جلد ہی پہیے لگ جائیں گے اور یہ کنٹینر پانجاب سے ہوتا ہوا سندھ پہنچے گا۔

کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کنٹینر جلد ہی پنجاب کے شہروں اور دیہاتوں سے ہوتا ہوا گھوٹکی سے سندھ میں داخل ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ اتوار کو لاہور میں جو جلسہ ہو گا وہ بہت بڑا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لاہور سے خبریں مل رہی ہیں وہ بہت مثبت ہیں اور لاہور میں ایک تاریخی جلسہ ہو گا۔

’نئے پاکستان کے مشن کا آغاز لاہور سے ہوا تھا اور لاہور والوں نے شاندار آغاز کرایا۔‘

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ آج حیدرآباد اور سیہون جا رہے ہیں جس کے بعد جامشورو جائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت اور نظریے کو دفنا دیا ہے۔ جو جماعت پانچ سال حکومت میں رہنے کے باوجود اپنی رہنما کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کر پائی کیا وہ ہمیں سیدھا راستہ دکھائے گی۔‘

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ 2018 سے پہلے انتخابات دیکھ رہے ہیں اور اگر غیر جانبدار الیکشن کمیشن وجود میں آ گئی تو اگلے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف سویپ کر جائے گی۔

06:53 GMT

’اگر اللہ نے موقع دیا تو ۔۔۔‘

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے اگر انہیں اللہ نے موقع دیا تو وہ ملک سے غربت کے خاتمے تک بیرونی دورہ نہیں کریں گے۔

دھرنے کے شرکا سے خطاب میں عمران حان نے وزیراعظم کے دورہ امریکہ پر تنقید کی اور کہا کہ معاشی صورتحال اور قرضوں کے بوجھ کی وجہ سے وزیراعظم کو بیرونی دورے پر نہیں جانا چاہیے تھا۔

’ اگر اللہ باری دے گا تو پاکستان سے باہر نہیں نکلوں گا جب تک گیارہ کروڑ پاکستانیوں کو غربت کی لکیر سے باہر نہیں نکالتا۔‘

نیا پاکستان کیسے بنے گا؟ اس نکتے پر بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ ہم نے تین کام کرنے ہیں:

’پیسے والوں سے ٹیکس وصول کریں گے، فضول خرچی ختم کریں گے، کرپشن ختم کریں گے اور عدل اور انصاف کا نظام ٹھیک کریں گے۔‘

’بڑے بڑے مگر مچھوں کو پکڑوں گا، ایک آدمی نہیں چھوڑوں گا، ان کو جیلوں میں ڈلواؤں گا۔‘

تحریک انصاف کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ 44 روزہ دھرنا دنیا کا سب سے طویل ترین دھرنا ہے۔

لوگوں کو حکومت پر اعتبار ہو گیا تو پاکستان میں 7 ہزار ارب روپیہ ٹیکس اکھٹا کر سکتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان کی جماعت نے آزادی رضاکار بنانے کا اعلان کیا ہے جو گھر گھر جا کر تحریک انصاف کا پیغام دیں گے۔

06:53 GMT

عمران خان نے استعفیٰ سپیکر کو نہیں دیا: اسفند یار ولی

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی کا کہنا ہے کہ سپیکر کو بھیجے گئے استعفوں میں عمران خان کا استعفٰی شامل نہیں۔

نجی ٹی وی چینل، ڈان نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے اسفند یار ولی نے کہا کہ عمران خان اور طاہرالقادری خود کو بند گلی میں لے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی کو بھیجے گئے استعفوں میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین کا استعفیٰ شامل نہیں ہے، عمران خان پتہ نہیں کس کے مشوروں پر چل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف ملزم ہیں، مجرم نہیں، جب تک جرم ثابت نہیں ہوتا ملزم کو اس کی سزا نہیں دی جاسکتی۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’میں چیلنج کرتا ہوں کہ اگر اس بار آئین ٹوٹا تو نیا آئین نہیں بنے گا۔‘

موجودہ صورتحال میں فوج کے کردار پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پہلی بار ٹی وی پر دیکھا کہ کسی جرنیل نے کہا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔

’انھوں واضح طور پر کہا ہے کہ ہم سیاسی کردار ادا نہیں کرنا چاہتے۔‘

فوج کو اس معاملے میں مدد کے لیے بلانے کے حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں اسفند یار ولی نے کہا کہ اس میں دونوں جماعتوں اور حکومت نے غلط کارڈ کھیلے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی کو معلوم نہیں کہ آرمی چیف سے عمران خان اور طاہرالقادری کی ملاقات میں کیا بات ہوئی۔

BREAKING 06:52 GMT بیرونی رورہ نہیں کروں گا، عمران

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے اگر انہیں اللہ نے موقع دیا تو وہ ملک سے غربت کے خاتمے تک بیرونی دورہ نہیں کرتیں گے۔

دھرنے کے شرکا سے خطاب میں عمران حان نے وزیراعظم کے دورہ امریکہ پر تنقید کی اور کہا کہ معاشی صورتحال اور قرضوں کے بوجھ کی وجہ سے وزیراعظم کو بیرونی دورے پر نہیں جانا چاہیے تھا۔

’ اگر اللہ باری دے گا تو پاکستان سے باہر نہیں نکلوں گا جب تک گیارہ کڑور پاکستانیوں کو غربت کی لیکر سے باہر نہیں نکالتا۔‘

نیا پاکستان کیسے بنے گا؟ اس نکتے پر بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ ہم نے تین کام کرنے ہیں

پیسے والوں سے ٹیکس وصول کریں گے، فضول خرچے ختم کریں گے، کرپشن ختم کریں گے اور عدل اور انصاف کا نظام ٹھیک کریں گے۔

’بڑے بڑے مگر مچھوں کو پکروں گا، ایک آدمی نہیں جھوڑوں گا، ان کو جیلوں میں ڈلواؤں گا۔‘

تحریک انصاف کے سربراہ نے دعوی کیا کہ 44 روزہ دھرنا دنیا کا سب سے طویل ترین دھرنا ہے۔

لوگوں کو حکومت پر اعتبار ہو گیا تو پاکستان میں 7 ہزار عرب روپیہ ٹیکس اکھٹا کر سکتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان کی جماعت نے آزادی رضاکار بنانے کا اعلان کیا جو گھر گھر جا کر تحریک انصاف کا پیغام دیں گے۔

06:51 GMT

نواز انسان نہیں بلکہ پرانے نظام کے بادشاہ ہیں: عمران

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ نواز شریف انسان نہیں بلکہ پرانے نظام کے بادشاہ ہیں۔

دھرنے کے شرکا سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ حکومت نے کروڑوں روپےاسمبلی کے سیشن پر خرچ کیے لیکن اس میں غریبوں کی بات نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی اور بلوچستان میں ہونے والی ہلاکتوں پر بھی بات نہیں کی گئی۔

انھوں نے قومی اسمبلی میں موجود جماعتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ وہ ڈر رہے تھے کہ اگر عوام کے زور پر یہ (نواز شریف) گیا تو وہ سارے ہی ساتھ چلے جائیں گے۔‘

عمران خان نے کہا کہ وہ عوام کی طاقت سے دو جماعتوں کے سربراہوں کو شکست دیں گے جو 30 سال سے باریاں لے رہی ہیں۔

’لوگ کہتے ہیں اشارہ آیا، کوئی لندن پلان ہے، جی ایچ کیو سے اشارہ آیا، یہ نہیں جانتے کہ سوائے عوام کی قوت کے ان مگر مچھوں کو شکست نہیں دے سکتے۔‘

06:51 GMT

’انتخابات میں ہونے والی دھاندلی میں میرا کوئی کردار نہیں تھا‘

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف کا کہنا ہے کہ 2013 کے عام انتخابات میں ہونے والی دھاندلی میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔

نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ ’نہ میں الیکشن کروانے والا ہوں، نہ میں چیف الیکشن کمشنر تھا ، نہ میں نگران وزیراعظم تھا نہ میں کسی صوبے کا نگران وزیراعلٰی تھا، مجھ سے کیوں شکایت ہے آپ کو کہ میں الیکشن کی دھندلی کا ذمہ دار ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں نے ڈیڑھ لاکھ ووٹ لیے، دھاندلی کا الزام لگانے والوں نے 40 ہزار ووٹ لیے تو ایک لاکھ ووٹوں کے ساتھ کیسے دھاندلی ہو سکتی ہے۔

BREAKING 18:37 GMT مقصد ’گو نظام گو‘ ہے: عمران

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمارا اصل مقصد ’گو نواز گو‘ نہیں بلکہ ’گو نظام گو‘ ہے۔

دھرنے کے شرکا سے خطاب میں عمران خان نے دعوٰی کیا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان نے 44 روز تک دھرنا دے کر عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اتوار کو لاہور میں ہونے والا احتجاج گذشتہ احتجاجوں کا ریکارڈ توڑ دے گا۔

ادھر تحریک انصاف کے مستعفی ہونے والے اراکین سپیکر اسمبلی کی جانب سے طلبی کے باوجود پیش نہیں ہوئے۔

BREAKING 17:41 GMT وزیراعظم گئے تو سب جائیں گے: عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ نواز شریف انسان نہیں بلکہ پرانے نظام کے  بادشاہ ہیں۔

دھرنے کے شرکا سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ حکومت نے کروڑوں روپےاسمبلی کے سیشن پر خرچ کیے لیکن اس میں غریبوں کی بات نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی اور بلوچستان میں ہونے والی ہلاکتوں پر بھی بات نہیں کی گئی۔

انھوں نے قومی اسمبلی میں موجود جماعتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ وہ ڈر رہے تھے کہ اگر عوام کے زور پر یہ (نواز شریف) گیا تو وہ سارے ہی ساتھ چلے جائیں گے۔‘

عمران خان نے کہا کہ وہ عوام کی طاقت سے دو جماعتوں کے سربراہوں کو شکست دیں گے جو 30 سال سے باریاں لے رہی ہیں۔

’لوگ کہتے ہیں اشارہ آیا، کوئی لندن پلان ہے، جی ایچ کیو سے اشارہ آیا، یہ نہیں جانتے کہ سوائے عوام کی قوت کے ان مگر مچھوں کو شکست نہیں دے سکتے۔‘

BREAKING 17:41 GMT مجھ سے کیوں شکایت ہے ، وزیراعظم

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف کا کہنا ہے کہ 2013 کے عام انتخابات میں ہونے والی دھاندلی میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔

نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ ’نہ میں الیکشن کروانے والا ہوں، نہ میں  چیف الیکشن کمشنر تھا ، نہ میں نگران وزیراعظم تھا نہ میں کسی صوبے کا نگران وزیراعلٰی تھا، مجھ سے کیوں شکایت ہے آپ کو کہ میں الیکشن کی دھندلی کا ذمہ دار ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)  کے امیدواروں نے ڈیڑھ لاکھ ووٹ لیے، دھاندلی کا الزام لگانے والوں نے 40 ہزار ووٹ لیے تو ایک لاکھ ووٹوں کے ساتھ کیسے دھاندلی ہو سکتی ہے۔

22:04 GMT

’قانون میں دھاندلی کی تعریف پہلے سے موجود ہے‘

وزیراعظم کے معاون خصوصی عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ دھاندلی کی تعریف کے حوالے سے نئے سرے سے قانون نہیں بن سکتا۔ قانون میں دھاندلی کی تعریف پہلے سے موجود ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب میں عرفان صدیقی نے بتایا کہ عوامی نمائندگان کے 1976 کے ایکٹ میں دھاندلی کی تعریف موجود ہے۔

’اس میں لکھا ہوا ہے کہ کون سا ووٹ درست ہے اور کون سا غلط۔ لیکن وہ کہتے ہیں دو دن پہلے اگر پولنگ سٹیشن بدلا گیا تو وہ بھی دھاندلی ہے۔ اگر کوئی اہلکار کمیشن دیر سے پہنچا تو بھی دھاندلی ہے، اگر نتیجہ دس منٹ بعد نکلا تو وہ بھی دھاندلی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دھرنوں سے ملک کو 600 ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مذاکرات کی مدد سے دھرنوں کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔

وزیراعظم کے خصوصی معاون نے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی پر بینظیر اور نواز شریف نے پوری دنیا کے سامنے دستخط کیے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی لندن میں یا امریکہ میں کس کے ساتھ ملاقات ہوئی یا وہ وہاں کیا کرتے ہیں اس پر حکومت کو کوئی اعتراض نہیں۔ تاہم انھوں نے پی ٹی آئی کے سربراہ سے سوال کیا کہ ’آپ بھی ملاقات کریں مگر یوں چھپ چھپا کر کیوں کرتے ہیں۔‘