BBC navigation

ایم کیوایم کے کئی اکاؤنٹ بند، نئی تحقیقات کا آغاز

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 30 جنوری 2014 ,‭ 20:57 GMT 01:57 PST

عمران فاروق کے قتل کے تفتیش کے سلسلے میں لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے چار ہزار افراد سے بات چیت کی ہے

لندن میں میٹروپولیٹن پولیس نے متحدہ قومی موومنٹ کے کئی بینک اکاونٹ بند کرتے ہوئے ٹیکس نہ دینے کے الزامات کے تحت تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

متحدہ کے خلاف ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل اور منی لانڈرنگ کے الزامات پہلے ہی زیرِ تفتیش ہیں۔

دریں اثنا برطانوی کراؤن پراسیکیوشن سروس نے باضابطہ طور پر پاکستانی حکام سے ان دو افراد کی تلاش کا کہا ہے جو مبینہ طور پر ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں برطانیہ کو مطلوب ہیں۔

ایم کیو ایم ان تمام الزامات سے انکار کرتی ہے لیکن الطاف حسین اپنے ایک ٹیلی فونک خطاب میں کہہ چکے ہیں کہ لندن پولیس نے ان کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ الطاف حسین نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر انھیں گرفتار کیا گیا تو کارکن یاد رکھیں کہ ان کا قائد بےگناہ تھا اور بےگناہ ہے۔

ایم کیو ایم کے قانونی ماہر بیرسٹر فروغ نسیم نے بی بی سی کے پرواگرم ’نیوز نائٹ‘ میں پارٹی کا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عمران کا قتل پارٹی کے مخالفین کی سازش یا کوئی رہزنی کی واردات کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

ملزموں کی شناخت

’نیوز نائٹ‘ کی رپورٹ میں پہلی مرتبہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں دو پاکستانیوں کو بھی شناخت کیاگیا ہے جو مبینہ طور قتل کی ورادات کے فوراً بعد اسی شام ہیتھرو ایئرپورٹ سے سری لنکا پرواز کر گئے تھے اور اطلاعات کے مطابق انھیں سری لنکا سے کراچی پہنچنے پر ہوائی اڈے کے رن وے پرگرفتار کیا گیا تھا۔

’نیوز نائٹ‘ کی رپورٹ میں پہلی مرتبہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں دو پاکستانیوں کو بھی شناخت کیاگیا ہے جو مبینہ طور قتل کی واردات کے فوراً بعد اسی شام ہیتھرو ایئرپورٹ سے سری لنکا پرواز کر گئے تھے اور اطلاعات کے مطابق انھیں سری لنکا سے کراچی پہنچنے پر ہوائی اڈے کے رن وے پرگرفتار کیا گیا تھا۔

نیوز نائٹ کے مطابق پاکستانی حکام سے موصول ہونے والی دستاویزات میں ان دنوں کی شناخت محسن علی سید اور محمد کاشف خان کامران کے ناموں سے کی گئی ہے۔

محسن علی سید فروری 2010 میں پاکستان سے برطانیہ پہنچے تھے اور جنوبی لندن کے علاقے ٹوٹنگ میں قیام پذیر رہے۔ محمد کاشف خان کامران ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی واردات سے کچھ دن قبل لندن پہنچے۔ ٹیلی فون کے ریکارڈ کے مطابق کاشف خان کامران برطانیہ میں قیام کے دوران مسلسل محسن علی سید کے ساتھ رہے۔

یہ دونوں مطلوب افراد لندن پڑھنے کی غرض سے آئے تھے اور انھوں نے مشرقی لندن کے ایک کالج میں داخلہ لیا تھا۔

نیوز نائٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قواعد و ضوابط کے مطابق لندن کا یہ کالج کسی غیر ملکی طالب علم کی مسلسل غیر حاضری کی صورت میں اس بات کا مجاز ہے کہ وہ فوری طور پر اس کی اطلاع متعلقہ حکام کو کرے۔ لیکن ان دو افراد کی عدم حاضری کے بارے میں کالج نے 18 ماہ بعد برطانوی حکام کو آگاہ کیا۔

ایم کیو ایم کے خلاف تحقیقات

برطانوی حکام ایم کیوایم کے خلاف مختلف پہلوؤں پر تحقیقات کر رہے ہیں۔

  1. حکام الطاف حسین کی تقریروں کا جائزہ لے رہے ہیں جس میں انھوں نے مبینہ طور پر دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز باتیں کی تھیں۔
  2. ایم کیو ایم کے خلاف برطانوی حکام منی لانڈرنگ کی تحقیقات بھی کر رہے ہیں۔ گذشتہ دسمبر میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جو ضمانت پر رہا ہوئے ہیں۔
  3. سنہ 2012 میں دسمبر میں برطانوی پولیس نےایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر سے ڈھائی لاکھ پاونڈ مالیت کی مختلف کرنسیاں قبضے میں لی تھیں۔ جون سنہ 2013 میں انھوں نے الطاف حسین کے گھر سے دو لاکھ 30 ہزار پاؤنڈ قبضے میں لیے تھے۔
  4. برطانوی حکام ایم کیو ایم کے خلاف ٹیکس کی عدم ادائیگی سے متعلق تحقیقات بھی کر رہے ہیں۔

کالج کا کہنا ہے کہ ان سے اس بارے میں وضاحت طلب کی گئی تھی جو انھوں نے دے دی ہے۔ دوسری طرف برطانوی ہوم آفس کا کہنا ہے کہ کالج کے خلاف کوئی تحقیقات نہیں کی جا رہیں۔ البتہ انھوں نے اس بارے میں کچھ کہنے سے انکار کیا کہ آیا کالج نے ان دو طالب علموں کی عدم موجودگی کے بارے میں تاخیر کر کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی تو نہیں کی۔

نیوز نائٹ کو حاصل شدہ دستاویزات کے مطابق ان دونوں مطلوبہ اشخاص کے ویزا فارموں کی توثیق کراچی کے ایک بزنس مین معظم علی خان نے کی تھی جو 2010 میں افتخار حسین سے مسلسل رابطے میں رہے۔ معظم علی خان سے ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

افتخار حسین خان ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین کے بھیتجے ہیں اور انھیں گذشتہ برس کینیڈا سے لندن پہنچنے پر پولیس نے ہیتھرو کے ہوائی اڈے پر گرفتار کر لیا تھا۔ بعد ازاں ان سے تفتیش کر کے انھیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

ایم کیو ایم کے قانونی ماہر بیرسٹر فروغ نسیم نے افتخار حسین کے بارے میں نیوز نائٹ کو بتایا کہ پاکستانی حکام نے انھیں تشدد کانشانہ بنایا ہے، جس کی وجہ سے افتخار حسین کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔

نیوز نائٹ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے الطاف حسین کی کراچی میں ٹیلی فون پر کی جانے والی تقریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے جن میں انھوں نے مبینہ طور پر دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز باتیں کی تھیں۔ گذشتہ برس الطاف حسین کی ایک ایسی ہی تقریر پر لندن پولیس کو دس ہزار سے زیادہ شکایات موصول ہوئی تھیں۔

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں الطاف حسین کے گھر اور دفتر پر پولیس کے چھاپوں میں لندن پولیس نے پانچ لاکھ پاؤنڈ کے قریب نقد رقم برآمد کی تھی۔ منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں گذشتہ ماہ پولیس نے ایم کیو ایم کے ایک اہم رہنما کو گرفتار کیا تھا۔

اس تفتیش کے سلسلے میں لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے چار ہزار افراد سے بات چیت کی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔