کراچی: پولیس مقابلے میں طالبان کمانڈر ہلاک

  • 4 دسمبر 2013
کراچی میں اس سے پہلے بھی پولیس متعدد طالبان کمانڈروں کو ہلاک اور گرفتار کرنے کا دعویٰ کر چکی ہے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس حکام کے مطابق مواچھ گوٹھ کے قریب ایک مبینہ پولیس مقابلے میں مشتبہ طالبان کمانڈر ہلاک اور دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

کراچی پولیس کے ایس ایس پی عرفان بلوچ نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کمانڈر فضل الرحمان پولیس اہلکاروں کے قتل سمیت 50 سے زائد مقدمات میں مطلوب تھے۔ ملزم کے قبضے سے ایک کلاشنکوف بھی برآمد ہوئی ہے۔

کراچی میں ہلاکتوں پر احتجاج، حالات کشیدہ

’طالبان کی وجہ سے چھاپے نہیں مار سکتے‘

گذشتہ ماہ کراچی بدامنی کیس میں کسٹم حکام نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ شہر کے علاقے سہراب گوٹھ میں منشیات اور اسلحے کے گودام ہیں لیکن طالبان کی موجودگی کے باعث وہ کارروائی نہیں کر سکے۔

دوسری جانب رینجرز نے 37 مشتبہ ملزمان کو گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق رینجرز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں گلشن اقبال، ناتھا خان، بنگالی پاڑا، بلدیہ ٹاؤن اور دیگر علاقوں سے کی گئی ہیں۔

رینجرز نے اس سے ایک روز پہلے منگل کو 29 مشتبہ افراد گرفتار کیے تھے۔

کراچی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک مذہبی رہنما سمیت دس افراد کی ہلاکت کے خلاف آج بدھ کو مجلسِ وحدتِ مسلمین کی جانب سے احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔

کراچی میں گذشتہ کئی سالوں سے امن و امان کی صورتِ حال خراب ہے اور رواں سال ستمبر میں وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں شہر میں رینجرز کی سربراہی میں ٹارگٹڈ آپریشن کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ یہ آپریشن تاحال جاری ہے اور اس دوران چھاپوں میں سینکڑوں افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا جا چکا ہے۔

بدھ کو شہر کی صورتِ حال کشیدہ ہونے کے بعد کراچی یونیورسٹی، وفاقی اردو یونیورسٹی اور بعض نجی جامعات بند رہیں۔ نجی سکولوں کی انتظامیہ نے بھی آج سکول نہ کھولنے کا اعلان کیا تھا لیکن صوبائی وزیر تعلیم نثار کھوڑو کے اس بیان کے بعد کہ تمام تعلیمی ادارے کھلے رہیں گے، صورتِ حال غیر واضح ہوگئی اور نتیجے میں کئی سکول بند رہے اور جو کھلے ہوئے ہیں ان میں بھی حاضری معمول سے کم رہی۔