بھکر: فرقہ وارانہ تشدد، غیر اعلانیہ کرفیو

  • 24 اگست 2013

پنجاب کے ضلع بھکر میں دو مذہبی گروپوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک جبکہ ضلعے میں کشیدگی کے باعث دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔

ضلعی پولیس انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ علاقے میں کشیدگی کی وجہ سے انتظامیہ نے تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں اور ضلعے میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے جس کی وجہ سے پانچ سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سنیچر کی صبح تمام مساجد میں اعلان کروائے گئے تھے کہ لوگ گھر سے باہر نہ نکلیں۔

جمعے کو دو مذہبی گروہوں کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسے کے علاوہ دارالحکومت اسلام آباد میں ہائی وے پر واقع ایک مدرسے میں جمعے کی رات فائرنگ کے نتیجے میں مدرسے کے مہتمم سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

بھکر کی ضلعی پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اکیس اگست کو کالعدم سپاہِ صحابہ کے ایک کارکن کا قتل ہوا تھا جس کے بعد جمعے کو اہلِ سنت والجماعت نے ایک احتجاجی جلوس نکالا، جب یہ جلوس ختم ہو کر واپس جا رہا تھا تو انہوں نے شیعہ مسلک کے خلاف نعرے بازی کی جس پر ان کے مخالف گروہ کے افراد جو بیٹھے ہوئے تھے ان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

اہلکار نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں چھ اہلِ سنت والجماعت کے رکن، تین شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد اور ایک بریلوی مسلک کے شخص شامل ہیں۔

ضلعی پولیس کے اہلکار نے بتایا کہ حالات اب کنٹرول میں ہیں جبکہ ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین دن بھر جاری رہی اور آخری جنازہ شام ہو پانچ بجے کے قریب ہے۔

ضلعی پولیس نے علاقے میں کرفیو کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اعلانیہ کرفیو نافذ نہیں کیا گیا مگر مساجد میں انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے اعلان کروایا گیا تھا کہ سکیورٹی صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے لوگ اپنے گھروں پر ہی رہیں۔

ضلعی پولیس انتظامیہ کے اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ علاقے میں امن و امان قائم کرنے کے لیے پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔

مقامی انتظامیہ نے اس سے قبل یہ بتایا تھا کہ اہلسنت والجماعت کے دس کارکنوں کے اغوا ہونے کی اطلاعات تھیں جن میں سے پانچ افراد کی لاشیں مل چکی ہیں جبکہ انتظامیہ کے مطابق دونوں گروپوں کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ بھکر میں شیعہ سُنی فسادات پہلے بھی ہو چکے ہیں اور وہاں پر کئی خودکش حملے بھی ہوچکے ہیں۔

دوسری طرف اسلام آباد میں ایک مدرسے پر فائرنگ سے تین افراد کی ہلاکت کے بعد مظاہرین نے اسلام آباد ہائی وے کو بلاک کر کے اس واقعے کے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

جماعت اہلسنت والجماعت نےاسلام آباد ہائی وے پر واقع مدرسے میں جمعے کی رات فائرنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کے خلاف اتوار کے روز پورے ملک کی اہم شاہراوں پر دھرنے دینے کا اعلان کیا ہے۔

اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے مظاہرین سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بھی ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت شام اور عراق جیسے حالات پیدا کیے جارہے ہیں اور حکو مت کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

اُنہوں نے کہا کہ حکومت کو شدت پسندی کے واقعات کو روکنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہیے۔

مظاہرین نے جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب تقربیاً ڈھائی بجے تک احتجاج جاری رکھا جس کے بعد انتظامیہ سے مذاکرات کے بعد وہ منتشر ہو گئے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی انتظامیہ نے مولانا احمد لدھیانوی پر وفاقی دارالحکومت میں داخلے پر کچھ عرصے کے لیے پابندی عائد کی تھی جو کہ بعد میں واپس لے لی گئی۔

اسلام آباد کے ررول سرکل کے ایس پی شبیہ احمد کے مطابق اسلام اباد میں مدرسے میں فائرنگ کا واقعہ اُس وقت پیش آیا جب لوگ نماز پڑھ کر مسجد کے باہر کھڑے تھے۔

ایس پی شبیہ احمد کے مطابق مدرسے کے مہتمم قاری محمد عارف اور دیگر افراد نماز کی ادائیگی کے بعد باہر کھڑے تھے کہ موٹر سائکل پر سوار دو نامعلوم مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔

فائرنگ کے نتیجے میں مدرسے کے مہتمم قاری محمد عارف، طالبعلم محمد شاکر اور ایک نمازی درویش موقع پر ہی ہلاک ہوگئے تھے۔

پولیس ذرائع کے مطابق مدینۃ العلم نامی اس مدرسے کا تعلق دیوبند مسلک سے ہے۔