توہینِ رسالت کے الزام کے بعد عیسائی آبادی پر حملہ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 9 مارچ 2013 ,‭ 20:15 GMT 01:15 PST

گھروں کے اندر کا تمام سامان تہس نہس کر دیا گیا ہے

لاہور میں ایک عیسائی شخص کے خلاف توہینِ رسالت کے الزام کے بعد مشتعل افراد نے جوزف کالونی پر دھاوا بول کر مکانات اور دکانوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

ہمارے نمائندے عبادالحق کے مطابق لاہور کے بادامی باغ کے انڈسٹریل ایریا کے قریب واقع جوزف کالونی میں ہفتے کے روز مشتعل افراد نے حملہ کر کے پونے دو سو کے قریب مکانات اور دکانوں کو نقصان پہنچایا۔ اسی دوران دو چھوٹے گرجا گھروں کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا۔

حکومت پنجاب نے متاثرہ خاندانوں کو فی کس دو لاکھ روپے معاوضہ دینے، حملے میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے اور ان پر انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمات درج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کروائی جائیں گی۔

پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو ایک کیمپ میں رکھا جائے گا جہاں ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا جائے گا۔

قومی ہم آہنگی کے متعلق وزیر اعظم کے مشیر پال بھٹی نے کہا ہے کہ یہ واقعہ حکومت پنجاب کی مکمل ناکامی ہے اور یہ کہ انہوں نے اس واقعے سے پہلے ہی پنجاب کے آئی جی پولیس اور چیف سیکریٹری کو اپنے خدشات سے آگاہ کردیا تھا۔

ہمارے نمائندے نے وقوعے پر پہنچ کر بتایا کہ جوزف کالونی میں زبردست تباہی مچی ہے۔ اس علاقے میں چھوٹے چھوٹے گھر تھے جن میں زیادہ تر خاکروب مقیم تھے۔ ان کے گھروں میں بری طرح توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی گئی اور گھر کے سامان کو توڑنے پھوڑنے کے بعد گھروں کو آگ لگا دی گئی۔

اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ علاقے کی عیسائی آبادی جمعے کے روز ہی گھروں کو تالہ لگا کر علاقہ چھوڑ کر چلی گئی تھی۔

متاثرین اب اس علاقے میں واپس آ رہے ہیں۔ ایک خاتون نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ ’ہم تو مسلمانوں کے گھروں میں صفائی کرتے ہیں، ان کی خدمت کرتے ہیں، پھر ہمارا گھر کیوں تباہ کر دیا گیا ہے؟‘

مسلمان کا گھر

جوزف کالونی میں جہاں تمام آبادی علاقہ چھوڑ کر چلی گئی تھی وہیں ایک گھر کے باہر کارڈ پر جلی حروف میں یہ عبارت لکھی ہوئی دیکھی گئی:

’یہ مسلمان کا گھر ہے‘

علاقے میں کئی گھروں سے اب بھی دھواں اٹھ رہا ہے، لیکن تنگ گلیوں کی وجہ سے آگ بجھانے کی کوششوں میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس غفار قیصرانی نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ ہفتے کے روز مشتعل ہجوم پر قابو پانے کی کوشش میں 20 سے زائد پولیس اہل کار زخمی ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ اب صورتِ حال پر قابو پا لیا گیا ہے اور حالات کنٹرول میں ہیں۔

علاقے کے ایس ایچ او عبدالماجد نے کہا کہ ایک بے قابو مجمعے نے محلے پر ہلہ بول دیا۔ پولیس نے انھیں روکنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ مقامی لوگ ہی تھی، جن کی نشان دہی کر دی گئی ہے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

جمعے کی رات کو ایک عیسائی لڑکے ساون مسیح کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ لاہور کے بادامی باغ پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ پرچہ شاہد عمران کی مدعیت میں 295 سی کے تحت درج کیا گیا تھا۔

تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حجام شاہد عمران نے بتایا تھا کہ ساون مسیح نامی لڑکا توہین رسالت کا مرتکب ہوا ہے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔

باغ پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او حافظ عبدالماجد نے بتایا کہ ساون مسیح کی عمر تقریباً 25 سال ہے۔ وہ اپنے مکان کے باہر بلیئرڈ ٹیبل رکھ کر کاروبار کیا کرتا تھا۔

ان کے مطابق ساون مسیح کے مکان کے سامنے ہی شاہد عمران کا کھوکھا ہے جہاں وہ حجامت بناتا ہے۔

باغ پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او حافظ عبدالماجد نے بتایا ’پہلے تو ہم مذہبی جماعتوں کو بھی ساتھ لے آئے کہ جو آپ کہتے ہیں ہم پرچہ بناتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا ’20 تاریخ کو لوہا مارکیٹ میں انتخابات ہیں اور دونوں طرف کے امیدوار کھڑے ہو رہے ہیں۔ اس لیے بھی یہ معاملہ سیاسی بن گیا ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔