’وزیراعظم دورۂ بھارت کا ارادہ رکھتے ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 5 مارچ 2013 ,‭ 09:40 GMT 14:40 PST

وزیراعظم اجمیر شریف کی درگاہ پر حاضری کے لیے بھارت جا رہے ہیں

پاکستان اور بھارت کے سفارتی اہلکاروں نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف آئندہ چند دن میں بھارت کا دورہ کریں گے جس کے پروگرام کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

نئی دلّی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ذرائع نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ وزیراعظم سنیچر کو ’نجی‘ دورے پر بھارت آئیں گے۔

اس کے علاوہ اسلام آباد میں بھارت کے ایک سفارتی اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اجمیر شریف پر حاضری دینا چاہتے ہیں جس کے لیے پاکستان کی درخواست پر تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

بھارتی اہلکار نے بتایا کہ پاکستانی وزیر اعظم کا یہ نجی دورہ ہوگا اور فی الوقت ان کی بھارت کے کسی سیاسی رہنما کے ساتھ ملاقات طے نہیں ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ایک افسر نے بھی نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر وزیراعظم اشرف کے مجوزہ دورے کی تصدیق کی لیکن یہ بھی کہا کہ اس بارے میں بھی فی الوقت کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ دورے میں وزیراعظم کے ساتھ ان کے اہلخانہ ہی ہوں گے یا وفاقی کابینہ کے ارکان بھی ان کے ساتھ جائیں گے۔

اجمیر شریف میں انجمن خدام کے سیکرٹری سید واحد حسین انگارہ کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے ابھی انہیں کوئی معلومات نہیں ملی ہیں۔

پاکستانی وزیر اعظم کے بھارت کے اس دورے کی تیاریاں ایسے وقت کی جا رہی ہیں جبکہ لائن آف کنٹرول پر دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان حالیہ مہینوں کے دوران جھڑپوں کے بعد فریقین کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں نہ صرف دو طرفہ امن مذاکرات کا عمل متاثر ہوا ہے بلکہ اعتماد سازی کے بعض اہم اقدامات پر عملدرآمد بھی کھٹائی میں پڑگیا ہے۔

"جب زرداری صاحب آئے تھے اور ڈاکٹر منموہن سنگھ نے انہیں کھانے پر مدعو کیا تھا اور گفت و شنید ہوئی تھی مگر جنوری، فروری سے لائن آف کنٹرول کا جو معاملہ شروع ہوا اس کی وجہ سے اب وہ ماحول نہیں ہے۔۔۔۔بھارت میں اس وقت یہ سوچ ہے کہ (پاکستان میں) اب جو بھی نئی حکومت آئے گی اس سے بات کی جائے گی۔"

اندر ملہوترا

وزیراعظم کے دورۂ بھارت کی اطلاعات پر بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ ریاض کھوکھر نے کہا ہے کہ حکومت کی آئینی مدت ختم ہونے سے کچھ دن پہلے وزیراعظم کے اس مجوزہ دورۂ بھارت کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔

’میرا خیال ہے کہ راجہ صاحب کے اس دورے کی کوئی سفارتی یا سیاسی اہمیت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔منموہن سنگھ ایسے وزیر اعظم کے ساتھ کیا بات کریں گے جو دس بارہ دن میں فارغ ہو رہے ہیں۔‘

بھارتی تجزیہ کار اندر ملہوترا کا مؤقف بھی بڑی حد تک یہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف جس وقت اور ماحول میں بھارت کا دورہ کرنے جارہے ہیں وہ ماضی سے قدرے مختلف ہے۔

’جب زرداری صاحب آئے تھے اور ڈاکٹر منموہن سنگھ نے انہیں کھانے پر مدعو کیا تھا اور گفت و شنید ہوئی تھی مگر جنوری، فروری سے لائن آف کنٹرول کا جو معاملہ شروع ہوا اس کی وجہ سے اب وہ ماحول نہیں ہے۔۔۔۔بھارت میں اس وقت یہ سوچ ہے کہ (پاکستان میں) اب جو بھی نئی حکومت آئے گی اس سے بات کی جائے گی۔‘

خیال رہے کہ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری بھی پچھلے سال اپریل میں اجمیر شریف کی درگاہ پر حاضری دینے بھارت گئے تھے جہاں انہوں نے بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ سے بھی ملاقات کی تھی۔ اس بات چیت سے تعلقات کی استواری کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد ملی تھی۔

اسی دورے کے دوران صدر آصف علی زرداری نے منموہن سنگھ سے بھارتی جیل میں قید پاکستان کے معمر شہری ڈاکٹر خلیل چشتی کو انسانی بنیادوں پر رہا کرنے کی درخواست بھی کی تھی اور پاکستان واپسی کے بعد صدر زرداری نے اس سلسلے میں بھارتی وزیر اعظم کو خط بھی لکھا تھا جس کے بعد ڈاکٹر خلیل چشتی کی رہائی عمل میں آئی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔