BBC navigation

کوئٹہ دھماکہ کی ذمہ دار سول انتظامیہ ہے: سیکرٹری دفاع

آخری وقت اشاعت:  بدھ 20 فروری 2013 ,‭ 09:06 GMT 14:06 PST

عدالت نے سیکرٹری دفاع کو دوبارہ رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا

سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ یاسین ملک نے کوئٹہ واقعہ کی ذمہ داری سول انتظامیہ پر عائد کردی ہے اور کہا ہے کہ وزارت دفاع کے ماتحت خفیہ اداروں کا کام محض معلومات کا تبادلہ ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ موجودہ سول انتظامیہ انسدادِ دہشت گردی کے پروگرام پر عمل درآمد کروانے کا اختیار رکھتی ہے جبکہ خفیہ ادارے کسی کارروائی کا اختیار نہیں رکھتے۔

ہمارے نمائندے شہزاد ملک کے مطابق سیکرٹری دفاع نے یہ باتیں بدہ کو سپریم کورٹ میں کوئٹہ بم دھماکے کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دروان جمع کی گئی رپورٹ میں کہی ہیں۔

سیکرٹری دفاع کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس آئی اور دیگر خفیہ ادارے ہر وقت ہر شخص پر نظر نہیں رکھ سکتے۔ اُنہوں نے کہا کہ خفیہ ادارے کسی واقعہ سے متعلق تھوڑی تھوڑی سی معلومات اکھٹی کرتے رہتے ہیں تب کہیں جاکر کسی واقعہ سے متعلق کوئی تصویر بنتی ہے۔

اُنہوں نے مزید بتایا ہے کہ بعض اوقات ان معلومات کے تناظر میں کسی واقعہ کی تصویر مکمل بھی نہیں ہوپاتی۔

آئی ایس آئی کی طرف سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرنے سے تین ہفتے دور ہے اور ملک میں امن وامان کی خراب صورت حال کی وجہ سے دو سال کے لیے عبوری سیٹ اپ کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔

یاد رہے کہ ہزارہ برادری سولہ فروری کے واقعہ کے بعد کوئٹہ کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ یاسین ملک کا کہنا ہے کہ فوج کے خفیہ ادارے ملٹری انٹیلیجنس کو کسی شدت پسند یا سماج دشمن عناصر کے بارے میں اگر کوئی معلومات ملتی ہیں تو وہ اس کو آئی ایس آئی کو بھیج دیتی ہے۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی نے اس واقعہ کے بعد 130 سرچ آپریشن کیے ہیں جن سے شدت پسندی کے واقعات کو روکنے میں مدد ملی ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس رپورٹ پر عدم اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری دفاع سے کہا کہ اس رپورٹ میں اُن سوالات کے جوابات نہیں دیے گئے جو سپریم کورٹ نے اپنے اُنیس فروری کے حکم نامے میں لکھے تھے جس میں اس واقعہ کے ذمہ داروں اور فرائض میں غفلت برتنے والوں کی نشاندہی بھی شامل تھی۔ عدالت نے سیکرٹری دفاع کو دوبارہ رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا۔

بینچ میں موجود جسٹس خلجی عارف حسین کا کہنا تھا کہ ملک میں فوج کے آنے کی افواہیں گردش کر رہی ہیں تاہم امن و امان کی ذمہ داری سول انتظامیہ کی ہی ذمہ داری ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد پورے ملک میں کاروبار زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے جس کی وجہ سے ارباب اختیار کو اس معاملے میں جس طرح توجہ دینی چاہیے تھی اُس طرح کی نظر نہیں آرہی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔