کشن گنگا ڈیم: پاکستان کا اعتراض تسلیم کر لیا گیا

آخری وقت اشاعت:  منگل 19 فروری 2013 ,‭ 18:03 GMT 23:03 PST

پاکستان کا موقف ہے کہ کشن گنگا ڈیم سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہے

ہیگ کی ایک بین اقوامی عدالت نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں زیرِ تعمیر کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے سلسلے میں پاکستان کے اعتراض کو تسلیم کرلیا ہے، لیکن عدالت نے پاکستان کی اس دلیل کو تسلیم نہیں کیا کہ بھارت کے اس پروجیکٹ سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

عدالت نے کشن کنگا پروجکٹ کی تعمیر کی اجازت دے دی ہے لیکن اس میں پاکستان کے اعتراضات کے پیشِ نظر اس کے ڈیزائن میں تبدیلی کرنی ہو گی اور عدالت آئندہ مہینوں میں یہ بھی طے کرے گی کہ بھارت کو پانی کا کم سے کم کتنا بہاؤ رکھنا لازمی ہو گا۔

ہیگ کی بین اقوامی عدالت نے شمالی کشمیر کے خطے میں واقع اس زیر تعمیر پن بجلی گھر کے تنازعے کا جزوی اور ملا جلا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے پاکستان کے اس اعتراض کو صحیح ٹھہرایا کہ پن بجلی گھر کے پانی کے ذخیرے کا جو ڈیزائن تیار کیا گیا ہے اس سے پاکستان کی طرف پانی کے بہاؤ پر اثر پڑے گا۔

لیکن عدالت نے پاکستان کی یہ دلیل نہیں مانی کہ اس ڈیم سے آبی معاہدے کے خلاف ورزی ہوئی ہے۔

بھارت میں آبی تنازعے پر نظر رکھنے والی سینیئر تجزیہ کار گارگی پارسائی نے بی بی سی بات کرتے ہوئے ہیگ کے فیصلے کے بارے میں بتایا: ’بھارت کو ڈیم بنانے کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن پانی کے بہاؤ کی بھی کم سے کم سطح برقرار رکھنی ہو گی۔‘

"بھارت کو ڈیم بنانے کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن پانی کے بہاؤ کی بھی کم سے کم سطح برقرار رکھنی ہو گی۔"

سینیئر تجزیہ کار گارگی پارسائی

3600 کروڑ روپے کی مالیت سے تعمیر ہونے 330 میگاواٹ کے کشن گنگا بجلی گھر پراجیکٹ کے بارے میں اس فیصلے پر بھارت کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اس سے بھارت کے موقف کی توثیق ہوگئی ہے۔ لیکن گارگی کہتی ہیں کہ ’یہ ایک ملا جلا فیصلہ ہے، بھارت کو پراجیکٹ کی تعمیر کی اجازت مل گئی ہے، یہ ایک بڑا فیصلہ ہے، لیکن ساتھ ہی عدالت نے پانی کے ذخیرے کے ڈیزائن کے بارے پاکستان کے اعتراض کو بھی تسلیم کیا ہے۔‘

اس فیصلے کا مطلب یہ ہے بھارت یہ ڈیم تو تعمیر کر سکے گا لیکن اسے پاکستان کے آبی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے اس میں تبدیلی کرنی پڑے گی۔

ہیگ کی عدالت اس سال کے آحر تک اس آبی تنازعے کا حتمی فیصلہ سنائے گی۔ اس مدت میں اس نے بھارت اور پاکستان سے پانی کے بہاؤ اور متعلہ ماحولیاتی پہلوؤں کی مکمل تفصیل طلب کی ہے۔ حتمی فیصلے کے بعد ہی اس ڈیم کو حتمی شکل دی جا سکے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔