’چھ برس میں ہزار سے زیادہ عمائدین ہلاک‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 14 فروری 2013 ,‭ 10:40 GMT 15:40 PST

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں گذشتہ چھ سالوں کے دوران کم سے کم ایک ہزار سے زیادہ قبائلی عمائدین اور قومی مشران (رہنما) ہدف بنا کرمارے گئے ہیں جب کہ سینکڑوں اپنا علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

فاٹا سکریٹیریٹ میں ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ 2006 سے 2012 تک سات قبائلی ایجنسیوں اور نیم قبائلی علاقوں میں شدت پسندی کے مختلف واقعات میں ایک ہزار سے زیادہ قبائلی عمائدین اور قومی مشران کو ہدف بنا کر ہلاک کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس دوران سینکڑوں قبائلی عمائدین زخمی ہوئے ہیں جن میں کچھ شدید زخمی تھے اور کچھ معمولی زخمی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سات قبائلی ایجنسیوں میں 42647 قبائلی ملکان موجود ہیں۔ جن میں بعض کو قبائلی عمائدین یا ملکانان اور بعض لنگی مشر یا قومی مشران کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ باجوڑ ایجنسی میں7396، مہمند ایجنسی میں 8289۔ خیبر ایجنسی میں 3681، کُرم ایجنسی میں 1112، اورکزئی ایجنسی میں 7613، شمالی وزیرستان میں 1576، جنوبی وزیرستان میں 1380 جبکہ نیم قبائلی علاقوں میں 2100 ملکان اور لنگی مشران موجود ہیں۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ گذشتہ چھ سالوں کے دوران تمام قبائلی علاقوں میں 1035 قبائلی ملکان اور قومی مشران کو ہدف بنا کر ہلاک کیے گئے ہیں۔ اہلکار کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں باجوڑ ایجنسی میں ہوئی ہیں۔

کلِک کس ایجنسی میں کون سے نمایاں ملکان ہلاک کیے گئے: کلک کریں

اہلکار کے مطابق نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے ان ایک ہزار قبائلی عمائدین میں سے کچھ ایسے امن کمیٹیوں کے لوگ شامل ہیں جو علاقے میں قومی مشران بھی تھے اور امن کمیٹیوں میں بھی پیش پیش تھے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ فاٹا سکریٹیریٹ کی جانب سے ہلاک ہونے والوں کو تین لاکھ اور زخمیوں کو ایک لاکھ پچاس ہزار پاکستانی روپے معاوضہ ادا کردیا گیا ہے۔

اہلکار نے واضح کیا کہ ہلاک ہونے والوں کی یہ تعداد مقامی انتظامیہ کی طرف سے رپورٹ کی گئی ہیں جن کو فاٹا سکریٹیریٹ نے معاوضہ بھی ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے عام شہری اور ایک قبائلی سردار کے ہلاکت پر لواحقین کو معاوضہ برابر ہی دیا جاتا ہے۔ البتہ خاصہ دار فورس اور لیویز کے اہلکاروں کو پہلے تین لاکھ دیے جاتے تھے اور بعد میں آٹھ لاکھ، جب کہ اب یہ رقم بڑھا کر 30 لاکھ کر دی گئی ہے۔

ابراھیم خان کوکی خیل آفریدی کو دو سال پہلے خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں ہدف بناکر ہلاک کیاگیا۔ ابراھیم خان کی ہلاکت کے بعد اب ان کے خاندان میں اور ابراھیم خان کے چچازاد بھائی ملک اکرام اللہ جان ایک سرکردہ ملک کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کی جانب سے حملوں کی وجہ سے سینکڑوں قبائلی عمائدین نے اپنے علاقے چھوڑ دیے ہیں اور وہ پاکستان کے دوسرے علاقوں میں رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے علاقے میں قبائلی جرگے بھی بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

ابراھیم خان کوکی خیل آفریدی کو دو سال پہلے خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں ہدف بناکر ہلا ک کیاگیا۔ ابراھیم خان کی ہلاکت کے بعد اب ان کے خاندان میں اور ابراھیم خان کے چچازاد بھائی ملک اکرام اللہ جان ایک سرکردہ ملک کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں۔

ملک اکرام اللہ جان نے بی بی سی کو بتایا کہ تمام قبائلی علاقوں میں ملکان کی ہلاکتوں سے انتظامیہ اور قبائل کے درمیان دوری پیدا ہوگئی ہے۔ اس دوری کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قبائلی عمائدین کا کردار حکومت اور عوام کے درمیان ایک پُل کے مانند تھا اور قبائلی سرداروں کی ہلاکت کے بعد جرگے بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور اس وقت قبائلی جرگے برائے نام رہ گئے ہیں۔

اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ جمردو جہانگیر اعظم نے بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ قبائلی عمائدین کو چُن چُن کر ہلاک کیاگیا ہے۔ لیکن اس کے باجود بھی قبائلی نظام کا انحصار جرگوں پر ہے اور وہ ایجنسی کے اندر تمام معاملات اور تنازعات کو جرگوں کے ذریعے حل کراتے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حالت خراب ہونے سے پہلے قبائلی عمائدین کے ذریعے ان کے تمام تنازعات مقامی سطح پر حل ہوتے تھے لیکن قبائلی عمائدین کے کمزور ہونے سے لوگوں کے درمیان تنازعات حل کرانے میں انتہائی مُشکلات کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔