BBC navigation

چیئرمین نیب سپریم کورٹ میں پیش

آخری وقت اشاعت:  پير 4 فروری 2013 ,‭ 14:14 GMT 19:14 PST
نیب کے چیئرمین ایڈمرل ریٹائرڈ فصیح بخاری

نیب کے چئرمین نے صدر زرداری کو خط میں لکھا تھا کہ عدالت ان کے افسروں پر دباؤ ڈال رہی ہے

سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے چیئرمین ایڈمرل ریٹائرڈ فصیح بخاری کو توہین عدالت کے مقدمے میں وکیل کرنے کے لیے آٹھ روز کی مہلت دے دی ہے۔ چیئرمین نیب کو کلِک توہین عدالت کے مقدمے میں اظہار وجوہ کا نوٹس اٹھائیس جنوری کو لکھے گئے کلِک خط پر دیا گیا تھا جس میں اُنہوں نے عدلیہ کی طرف سے نیب کے تفتیشی معاملات میں مداخلت کا ذکر کیا تھا۔

اکتیس جنوری کو دیئےگئے اظہار وجوہ کے نوٹس میں عدالت نے ایڈمرل فصیح بخاری کو چار فروری کو خود عدالت میں پیش ہو کر وضاحتی بیان دینے کا حکم دیا تھا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس معاملے کی سماعت کی تو کمرہ عدالت میں موجود میڈیا کے نمائندے اور دیگر وکلاء کہہ رہے تھے کے شاید چیئرمین نیب اس خط پر عدالت سے معذرت کریں گے اور بینچ سے غیر مشروط معافی مانگیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

"نیب کے پراسکیوٹر جنرل کے کے آغا نے عدالت سے استدعا کی کہ فصیح بخاری کو وکیل کرنے کے لیے دو ہفتوں کی مہلت دی جائے جس سے عدالت نے اتفاق نہیں کیا۔ اس مقدمے کی سماعت بارہ فروری تک کے لیے ملتوی کرد ی گئی"

یڈمرل فصیح بخاری جو کہ پاکستانی بحریہ کے سربراہ بھی رہے ہیں، روسٹم پر آئے اور اُنہوں نے ایسا کوئی تاثر نہیں دیا کہ اُنہیں خط لکھنے پر افسوس ہے۔

اُنہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اُنہیں اس معاملے میں وکیل کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنے موقف سے عدالت کو بہتر طریقے سے آگاہ کرسکیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ ظاہر ہوتا ہے کہ چیئرمین نیب اپنے خط سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اس خط میں لکھی گئی عبارت کا دفاع کریں گے۔ عدالت کی طرف سے بھی توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس واپس لینے کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔

نیب کے پراسکیوٹر جنرل کے کے آغا نے عدالت سے استدعا کی کہ فصیح بخاری کو وکیل کرنے کے لیے دو ہفتوں کی مہلت دی جائے جس سے عدالت نے اتفاق نہیں کیا۔ اس مقدمے کی سماعت بارہ فروری تک کے لیے ملتوی کرد ی گئی۔

اس سے پہلے بھی عدالت نے چیئرمین نیب کو کرائے کے بجلی گھروں کے بارے میں عمل درآمد سے متعلق مقدمے میں توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔