’ملالہ کو مزید سرجری کی ضرورت ہے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 30 جنوری 2013 ,‭ 14:16 GMT 19:16 PST

ملالہ کو فی الحال ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے اور وہ سرجری کے لیے دوبارہ ہسپتال آئیں گی

برطانوی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ طالبان کے قاتلانہ حملے کا نشانہ بننے کے بعد برطانیہ میں زیرِ علاج طالبہ ملالہ یوسفزئی کو مزید سرجری کی ضرورت ہے۔

برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر ڈیو روسر نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ ملالہ کی کرینئیل سرجری جلد کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ان کی گردن سے گولی نکالنے کے لیے آپریشن کیا گیا تھا تاہم اب بھی ملالہ کو مزید سرجری کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سرجری میں کوشش کی جائے گی کہ ملالہ کی یادداشت متاثر نہ ہو۔

ملالہ کی صحت کے بارے میں ڈاکٹر ڈیو روسر کا کہنا تھا کہ ملالہ کی صحت میں بہتری آ رہی ہے اور اس سرجری کے بعد ان کے مکمل صحت یاب ہونے میں پندرہ سے اٹھارہ ماہ لگ سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ملالہ یوسفزئی کو مزید دو آپریشنز کی ضرورت ہے۔’ایک کرینیو پلاسٹی کی جائے گی، یعنی گولی سے ان کے سر میں ایک طرف تباہ ہونے والی ہڈیوں کی جگہ ایک مخصوص ٹائٹینئیم پلیٹ لگائی جائے گی۔ دوسرے آپریشن میں ان کے بائیں کان میں ایک کوکلیئر اِمپلانٹ لگایا جائے گا۔‘

ڈاکٹر راسر نے بتایا کہ حملے میں گولی جہاں سے گزری اس نے ملالہ کے کان کے پردے اور چھوٹی ہڈیوں کو تباہ کر دیا جس کے بعد سے ملالہ بائیں کان سے نہیں سن سکتیں۔ اِمپلانٹ سے شاید یہ صورتحال بہتر ہو سکے۔

ڈاکٹر راسر نے یہ بھی بتایا کہ ملالہ یوسفزئی کا سب سے مشکل اور حساس آپریشن وہ تھا جو حملے کے فوارً بعد پاکستان میں ڈاکٹروں نے کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ ملالہ کا پاکستان میں جو آپریشن کیا گیا اس سے ان کی جان بچ گئی۔ ملالہ کو یہاں اس لیے لایا گیا کہ یہاں پر ری کنسٹرکٹیو سرجری کے لیے بہتر سہولتیں ہیں لیکن اگر وہ پہلےا آپریشن اتنا اعلیٰ معیار کا نہ ہوتا تو وہ نہیں بچتیں۔‘

"اس میں کوئی شک نہیں کہ ملالہ کا پاکستان میں جو آپریشن کیا گیا اس سے ان کی جان بچ گئی۔ ملالہ کو یہاں اس لیے لایا گیا کہ یہاں پر ری کنسٹرکٹیو سرجری کے لیے بہتر سہولتیں ہیں لیکن اگر وہ پہلا آپریشن اتنا اعلیٰ معیار کا نہ ہوتا تو وہ نہیں بچتیں۔"

ڈاکٹر ڈیوڈ راسر

انہوں نے بتایا کہ ملالہ کے سر کی تباہ ہونے والی ہڈی کو بھی پاکستان میں ڈاکٹروں نے ان کے پیٹ میں لگا کر محفوظ کر دیا تھا تاکہ اسے دوبارہ سر میں لگانے کی گنجائش ہو۔ تاہم اس کی جگہ اب ٹائٹینئیم کی پلیٹ لگانا زیادہ مناسب سمجھا گیا ہے تو اس ہڈی کو نکال دیا جائے گا اور بقول ڈاکٹر راسر کے ملالہ اسے اپنے پاس رکھنا چاہتی ہیں۔

کئی صحافیوں نے ملالہ یوسفزئی کے حوصلے کے بارے میں پوچھا تو ڈاکٹر نے جواب دیا کہ ’ملالہ بہت غیر معمولی شخصیت ہیں۔ ذہین ہیں، ہنس مکھ ہیں اور انہیں پورا احساس ہے کہ انہیں کن خطرات کا سامنا ہے اور کہ وہ اب بھی نشانے پر ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ اپنی جد وجہد میں ڈٹی ہوئی ہیں۔‘

سوات کی پندرہ سالہ طالبہ ملالہ یوسفزئی پر پچھلے سال نو اکتوبر کو طالبان نے اس وقت قاتلانہ حملہ کیاتھا جب وہ مینگورہ میں سکول سے واپس جا رہی تھیں۔ حملہ آوروں نے وین میں داخل ہو کر ان پر فائرنگ کی جس میں سکول کی دو اور طالبات بھی زخمی ہوئی تھیں۔

ملالہ یوسفزئی لڑکیوں کے لیے تعلیم کے حق لیے سرگرم رہی ہیں اور انہیں پاکستان کے قومی امن کے اعزاز سے بھی نوازا گیا تھا۔

طالبان نے ان پر حملے کے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے اس بچی پر اس لیے حملہ کیا کہ وہ مغرب کی حامی تھی اور صدر اوباما کی تعریف کر چکی تھی اور طالبان کے خلاف بول رہی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔